Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

صحافیوں کی ہی نہیں ججز کی بھی آزادی اظہار رائے ہوتی ہے، چیف جسٹس پاکستان

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائزعیسٰی نے ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ تنقید کی بنیاد پر درج ہونے والے مقدمات فوری واپس لیے جائیں۔  فیصلوں پرتنقید صحافی اورعام شہری بھی کرسکتے ہیں۔

سپریم کورٹ میں صحافیوں کو ہراساں کرنے کیخلاف ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان نے پوچھا کہ کتنے کیسز ہیں؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ یہ چار درخواستیں ہیں جن میں قیوم صدیقی اور اسد طور درخواستگزارہیں۔

چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ کیا جرنلسٹ ڈیفنس کمیٹی کے پاکستان بارکے نمائندے موجود ہیں؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ جرنلسٹ ڈیفنس کمیٹی اب ختم ہو چکی۔

وکیل حیدروحید نے کہا کہ ہم نے وفاقی حکومت کو آزادی اظہار رائے کو ریگولیٹ کرنے کا حکم دینے کی درخواست کی تھی جس پرعدالت نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی درخواست بعد میں دیکھیں گے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ سب سے پہلے تو قیوم صدیقی بتائیں کہ کیس خود چلانا ہے یا پریس ایسوسی ایشن کے صدر دلائل دیں گے؟ جس پرصحافی نے جواب دیا کہ میں کچھ حقائق سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔

چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ قدرت کا نظام دیکھیں کہ ہم نے ازخود نوٹس کورٹ نمبر دو میں لیا لیکن معاملہ 5 رکنی بنچ کے پاس ازخود نوٹس کے اختیار کے لیے چلا گیا، 5 رکنی بنچ نے طے کیا کہ 184 تین کا ازخود نوٹس لینے کا اختیار صرف چیف جسٹس کا ہے۔ صحافیوں کی ہی نہیں ججز کی بھی آزادی اظہار رائے ہوتی ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ عبدالقیوم صدیقی آپ نے تو کہا تھا کہ آپ اس کیس کو چلانا نہیں چاہتے، صحافی نے جواب دیا کہ جب معاملہ جسٹس اعجازالاحسن کے بنچ میں گیا تو کہا تھا کہ کیس نہیں چلانا چاہتا۔

عدالت نے کہا کہ سپریم کورٹ نے کیس نمٹانے کے بجائے 2021 سے سرد خانے میں رکھ دیا۔ بتائیں کہ تب کیا درخواست تھی آپ کی اوراب کیا ہے۔ جسٹس محمد علی مظہرنے کہا کہ کیا صحافیوں کے الزامات کی تصدیق ہوئی تھی؟

چیف جسٹس نے کہا کہ زندہ قومیں اپنی غلطی تسلیم کرتی ہیں، یہاں پر تو کہتے ہیں کہ مٹی پائو، پہلے والے سوموٹو میں تفصیلات لی جا رہی تھیں کہ کتنے کیسز ہیں، یہاں تو بغیر کیسز کے ہی تشدد کیا جاتا رہا ہے۔ اسد طورپرتشدد کا کیا بنا؟ جس پراٹارنی جنرل نے بتایا کہ تشدد کا مقدمہ درج ہوا تھا۔

چیف جسٹس پاکستان نے صحافی سے پوچھا کہ کیا آپ ملزمان کو پہچانتے ہیں؟ صحافی نے جواب دیا کہ ملزمان سامنے آئیں تو پہچان سکتا ہوں، میرے فلیٹ پرملزمان موبائل استعمال کرتے رہے لیکن جیوفینسنگ نہیں ہوئی۔

عدالت نے کہا کہ ملزمان کا خاکہ اور فنگرپرنٹ شیئرکیوں نہیں کیے گئے؟ ادارے کے پاس تو اپنے ملازمین کا مکمل ریکارڈ ہوگا۔

صحافی نے عدالت کو بتایا کہ ایف آئی آر میں عائد الزامات پر قائم ہوں، جس پرعدالت نے کہا کہ آپ کیس بھلے نہ چلائیں ہم آپ کو بنیادی حقوق دلوائیں گے، آپ پر دبائو ہے تو کیس واپس نہیں لینے دینگے جس پرصحافی نے جواب دیا کہ مجھ پرکسی قسم کا کوئی دبائو نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ہی چیف جسٹس نے صدر سپریم کورٹ بار شہزاد شوکت کو روسٹم پر بلا لیا۔

وکیل جہانگیرجدون نے کہا کہ عامرمیرکیخلاف مقدمہ 2021 میں درج ہوئی تھی جس پرجسٹس محمدعلی مظہرنے کہا کہ جن مقدمات میں صحافی شکایت کنندہ ہیں ان کا بتائیں کیا ہوا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ فی الحال صرف صحافیوں پرتشدد کی بات کر رہے ہیں دوسرے معاملے پر بعد میں آتے ہیں، مطیع اللہ جان کے کیس میں کیا ہوا؟

سپریم کورٹ نے اسد طور اور مطیع اللہ جان کے کیسز میں وفاقی حکومت سے پیشرفت رپورٹ مانگ لی۔

صحافی مطیع اللہ جان نے کہا کہ ارشد شریف کے قتل کا سوموٹو بھی مقررکیا جائے، جس پرچیف جسٹس نے کہا کہ ارشد شریف کا کیس ہوسکتا ہے آئندہ سماعت پر ساتھ ہی لگا دیں۔ اس وقت کوئی ایسا حکم نہیں دینا چاہتے جو ارشد شریف کے کیس میں جاری احکامات سے متصادم ہوں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ تنقید روکنے سے میرا کوئی فائدہ اگرحکومت کر رہی ہے تو اس کے سخت خلاف ہوں، حکومت صحافیوں کیخلاف کارروائی کرکے میرا نقصان کر رہی ہے، گالی گلوچ الگ بات ہے تنقید اصلاح کیلئے ہوتی ہے، فیصلے کو غیرآئینی اورغلط کہنا توہین عدالت نہیں ہوتا، اگر کوئی صحافی تشدد پر اکسائے تو الگ بات ہے۔

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائزعیسٰی نے ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ تنقید کی بنیاد پر درج ہونے والے مقدمات فوری واپس لیے جائیں۔  فیصلوں پرتنقید صحافی اورعام شہری بھی کرسکتے ہیں، فیصلوں پر ناجائز تنقید کی بھی اجازت ہوتی ہے۔

صدرسپریم کورٹ بارنے کہا کہ فیصلے پرتنقید ہونی چاہیے لیکن ججز کے خلاف من گھڑت کہانیاں نہیں بنانی چاہیے، جس پر جسٹس محمدعلی مظہرنے کہا کہ یوٹیوب کا کوئی کوڈ آف کنڈکٹ نہیں ہوتا، ٹی وی کیلئے تو پیمرا کا ضابطہ اخلاق موجود ہے، عدالتی فیصلے پبلک پراپرٹی ہوتے ہیں، زبان کا استعمال محتاط ہونا چاہیے۔

جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ ملک کی عزت ختم ہوگئی ہے، سوشل میڈیا نے اداروں کو تباہ کر دیا ہے، میڈیا کا بھی کام ہے حقیقت پر مبنی چیزیں سامنے لائے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ صحافیوں کی جانب سے مس کنڈکٹ ہو تو کیا کوئی قانونی فورم موجود ہے؟ جس پر جسٹس محمدعلی مظہرنے کہا کہ پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کو ضابطہ اخلاق موجود ہے سوشل میڈیا کا نہیں ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کچھ باتیں قائداعظم کی بھی سن لیتے ہیں۔

جسٹس محمدعلی مظہرنے کہا کہ یوٹیوب والوں کی بھی کوئی ایسوسی ایشن ہے یا یہ میڈیا کےساتھ ہی ہیں؟ اپنی ممبرشپ کا دائرہ کارہ یوٹیوب تک بھی بڑھائیں تاکہ وہ بھی کسی ضابطے میں آ سکیں، ہرمیڈیا ہائوس کی اپنی پالیسی ہوتی ہے لازمی نہیں یوٹیوب والی بات میڈیا پربھی کی جاسکے۔ جو کچھ یوٹیوب کے تھمب نیل میں ہوتا ہے وہ ویڈیو میں نہیں ہوتا۔

صدرپریس ایسوسی ایشن سپریم کورٹ نے کہا کہ یوٹیوب پرآنے والے مواد کی ذمہ داری نہیں لے رہے۔

چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ نفرت انگیز تقاریر کیساتھ کچھ اور چیزیں بھی صرف پاکستان میں ہی ہوتی ہیں، پولیو ورکرز کو قتل کردیا جاتا ہے، خواتین کے اسکولوں میں بم مارے جاتے ہیں، انتہا پسند سوچ کیخلاف حکومت کیوں کچھ نہیں کرتی؟ خواتین کو ووٹ ڈالنے اور پولیو قطروں سے روکنے والوں کو کیوں نہیں پکڑا جاتا؟ جڑانوالہ میں دیکھیں کیا ہوا، سب نفرت کا نتیجہ ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ان لوگوں کو استعمال کیا جاتا رہا ہے اب یہ اژدھا بن گئے ہیں، خواتین کو ووٹ سے روکنے کا فتویٰ دینے والے کو کیوں نہیں پکڑا؟

صحافی مطیع اللہ جان نے کہا کہ میڈیا پوری دنیا میں خود احتسابی اوراپنے ضابطہ اخلاق پرچلتا ہے جس پرجسٹس محمدعلی مظہرنے کہا کہ میڈیا خود ضابطہ اخلاق بنانا چاہتا ہے تو بتائے کس کی مدد درکار ہے؟ کیا پریس ایسوسی ایشن کسی غلط خبرکی تردید کرتی ہے؟ ہتک عزت کیس ہوجائے تو پچاس سال فیصلہ ہی نہیں ہوگا۔

جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ بہت سے لوگوں نے کام کرنا چھوڑدیا ہے، ان لوگوں کا ذریعہ معاش ہی یوٹیوب پر لوگوں کو گالیاں دینا ہے، ایسے لوگوں کو ملک کی کوئی فکر نہیں ہوتی۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ تعلیمی اداروں پر سب سے زیادہ حملے پاکستان میں ہوئے ہیں، کیا یہ شرم کی بات نہیں ہے؟ کیا کسی صحافی نے اس بات کو اجاگرکیا ہے؟ آزادی اظہار رائے اس طرح بھی استعمال ہوتا ہے کہ لوگوں کو مارا جاتا ہے، نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی پاکستان نہیں آ سکتیں اور ہم کچھ نہیں کرسکتے، ان کے پاس بندوق ہے اور ہمارے پاس قلم ہے، سرکاری مساجد میں تنخواہ لینے والے امام لوگوں کو یہ درس کیوں نہیں دیتے؟ خواتین کو تعلیم سے روکنا اسلامی تعلیمات کےخلاف ہے۔

صدرپریس ایسوسی ایشن نے کہا کہ آج گیارہ بجے صحافیوں کو طلب کیا گیا ہے۔

سپریم کورٹ نے صحافیوں کی گرفتاری اور مقدمات کے اندراج سے روکتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل وفاقی حکومت کی جانب سے یقین دہانی کرائیں گے کہ تنقید کیخلاف ایکشن نہیں ہوگا۔

متعلقہ خبریں