Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

دوران حمل پودوں پر مشتمل غذا پیچیدگیوں کا سبب بن سکتی ہے، تحقیق

ایک نئی تحقیق کے مطابق ویگن غذائی ڈائٹ پر عمل کرنے والی میں خواتین میں دوران حمل کئی طرح کی پیچیدگیوں کو خطرہ بڑھ جاتا ہےجن میں جان لیوا پری لیمپسیا ہونے اور کم وزن کے بچے کی پیدا ئش شامل ہے۔

ویگن ڈائٹ ایک ایسی ڈائٹ ہوتی جس میں صرف پودوں پر مشتمل غذا استعمال کی جاتی ہے جیسے پھل، سبزیاں، سالم اناج اور گریاں، جبکہ جانوروں سے حاصل ہونے والی کوئی بھی غذا یہاں تک کہ ڈیری مصنوعات یعنی دودھ اور انڈے بھی استعمال نہیں کیے جاتے۔

کوپن ہیگن یونیورسٹی کی اس تحقیق کے مطابق پودوں پر مشتمل غذا کھانے والی ماؤں کے ہاں پیدا ہونے والے بچے اوسطاً آدھا پاؤنڈ کم وزن رکھتے ہیں۔

اس حوالے سے ایک تحقیق کی گئی جس میں محققین نے ڈنمار ک کے حمل کے اعدادوشمار کا تجزیہ کیا  واضح رہے کہ اس تجزیہ میں  1996 اور 2002 کے درمیان تک 66,738 حاملہ خواتین کا جائزہ لیا گیا۔

ان میں سے 65,872 خواتین ہر طرح کی جیسے پودوں کے ساتھ جانوروں سے حاصل ہونے والی غذا کھاتی تھی جبکہ 666 نے کہا کہ وہ مچھلی، پولٹری اور سبزیاں کھاتی تھی، 183 سبزیوں کے علاوہ ڈیری مصنوعات بھی کھاتی تھی اور 18 ویگن ڈائٹ کو فالو کرتی تھیں۔

حمل کے وسط میں ان تمام خواتین سے ایک سوالنامہ پر کروایا گیا جس کے نتیجے میں محققین کو پتا چلا ان تمام خواتین میں پروٹین کمی کا تناسب مختلف تھا یعنی ان کی غذا میں پروٹین کم تھا اور پروٹین کا کم استعمال بچے کے کم وزن سے منسلک تھا۔

محققین کا کہنا ہے کہ ویگن ڈائٹ فالو کرنے والی خواتین میں خوردنی اجزاء کی مقدار بھی کافی کم تھی۔

جبکہ  پودوں کے ساتھ مچھلی اور پولٹری کھانے والی ماؤں کے بچے ہر  طرح کی غذا کھانے والی خواتین کی نسبت اوسطاً 0.03 پاؤنڈ کم وزن کے پیدا ہوئے۔

سبزیوں کے علاوہ ڈیری مصنوعات استعمال کرنے والی ماؤں کے ہاں سب سے صحت مند اور زیادہ وزن رکھنے والے بچے یعنی اوسطاً 0.07 پاؤنڈ وزنی پیدا ہوئے۔ جبکہ حیرت انگیز طور ویگن غذا کھانے والی خواتین میں حمل کا دورانیہ 5.2 دن زیادہ طویل تھا۔

ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ حاملہ خواتین روزانہ تقریباً 70 گرام پروٹین ضرور استعمال کریں، ساتھ ہی انہوں نے پودوں پر مشتمل مختلف غذائی چارٹ کو فالو کرنے والی حاملہ خواتین کو بھی مشورہ دیا کہ وہ گوشت اور مچھلی میں پائے جانے والے آئرن اور وٹامن B12، اور وٹامن ڈی، کیلشیم اور آیوڈین حاصل کریں۔

پری لیمپسیا فاؤنڈیشن کے مطابق یہ حمل کی خرابیاں ہیں جو  5 فیصد سے 8 فیصد تک حاملہ خواتین کو متاثر کرتی ہیں۔

پری لیمپسیا حمل کے 20ویں ہفتے کے بعد نشوونما پاتا ہے، اس میں ہائی بلڈ پریشر اور پیشاب میں پروٹین کی اعلی سطح سے ہوتی ہے۔ یہ گردے اور جگر کے افعال کو متاثر کرتا ہے، خون کے جمنے اور دورے کا سبب بن سکتا ہے، اور سنگین صورتوں پیچیدگیاں مزید بڑھ سکتی ہیں ۔