لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد جمیل خان اپنے عہدے سے مسفعی ہو گئے۔
ذرائع کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد جمیل خان نے اپنے عہدے کی مدت پوری ہونے سے 5 سال قبل ہی استعفیٰ دے دیا، انہوں نے اپنا استعفیٰ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو بھجوا دیا۔
ذرائع نے بتایا کہ جسٹس شاہد جمیل خان نے ذاتی وجوہات کی بناء پر استعفیٰ دیا، تاہم یہ سنیارٹی میں گیارویں نمبر پر تھے، انہوں نے 2028 میں ریٹائر ہونا تھا۔
استعفیٰ کا متن
جسٹس شاہد جمیل خان نے صدر مملکت کو بھیجے گئے استعفے میں لکھا کہ اس عہدے پر فائز ہونا ایک اعزاز کی بات تھی، ذاتی وجوہات کی وجہ سے صفحہ پلٹنے اور ایک نئے باب کا آغاز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
استعفے کے متن کے مطابق ایک اونس صوابدید ایک پاؤنڈ عقل کے قابل ہے، تاہم استعفیٰ میں شعر بھی لکھے گئے ہیں۔
آزاد کی اک آن ہے محکوم کا اک سال کس درجہ گراں سیر ہیں محکوم کے اوقات
آزاد کا اندیشہ حقیقت سے منور محکوم کا اندیشہ گرفتار خرافات
محکوم کو پیروں کی کرامات کا سودا ہے بندہ آزاد خود اک زنده کرامات
اقبال یہاں نام نہ لے علم خودی کا موزوں نہیں مکتب کے لیے ایسے مقالات
جسٹس شاہد جمیل خان
جسٹس شاہد جمیل خان لاہور ہائی کورٹ میں آیئنی نوعیت کے مقدمات کی سماعت کررہے تھے، انہوں نے حکومت کو ایک ماہ میں صوبائی پبلک سیفٹی کمیشن تشکیل دینے کا حکم دے رکھا ہے۔
جسٹس شاہد جمیل خان نے رمضان میں آٹا کی تقسیم کا میکنزم بنانے کا حکم دیتے ہوئے درخواستوں پر فیصلہ سنایا تھا اور نجی ہاؤسنگ سوسائٹیز کی بے ضابطگیوں کے خلاف متعدد احکامات جاری کیے تھے۔
جسٹس شاہد جمیل نے پنجاب کی پرائیویٹ ہاؤسنگ سوسائٹیز کو رہائشیوں کیخلاف تادیبی کارروائی سے روک رکھا ہے جبکہ انہوں نے اشیائے ضروریہ کی قیمتیں کنٹرول کرنے کے عدالتی فیصلے پر بھی عمل درآمد کا حکم دے رکھا ہے۔
جسٹس شاہد جمیل خان نے پرائیویٹ میڈیکل کالجز کے اسٹڈی پروگرام کے دوران فیسوں میں اضافہ غیر قانونی قرار دیا تھا جبکہ انہوں نے چولستان میں سرکاری اراضی پر موجود قابضین کو بے دخل کرنے سے روکنے کا تحریری فیصلہ بھی جاری کیا۔




















