Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

مشین لرننگ کی بدولت جگر اور پھیپھڑے کی کینسر کی شناخت میں اہم کامیابی

ماہرین نے ڈی این اے سیکوئنسنگ (پڑھنے کے عمل) کے دوران مشین لرننگ کی آزمائش سے ایک ایسا طریقہ کار وضع کیا ہے جس کی بدولت بالخصوص پھیپھڑوں اور جگر کے سرطان کی ابتدائی درجے میں ہی شناخت کرنا ممکن ہوسکے گا۔

یہ تحقیق سائنس ٹرانسلیشنل میڈیسن نامی جریدے میں شائع ہوئی ہے۔ جان ہاپکنز یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے دیکھا کہ بعض مریضوں کے خون کی ڈی این اے سیکوئنسنگ کے دوران ایک ہی طرح کا پیٹرن بار بار نمودار ہورہا ہے۔ اس مشین لرننگ سافٹ ویئر پر ڈالا گیا اور یوں جینوم کے ذریعے مائع (لیکوئڈ) بایوپسی کی ایک نئی راہ کھلی ہے۔

اس سافٹ ویئر کا پورا نام، ‘آرٹیمس فار اینالسس آف ریپیٹ ایلیمنٹس ان ڈیزیز کا نام دیا گیا ہے۔ اب ہم جین پڑھتے ہوئے بھی غیرمعمولی پیٹرن کو پڑھ کر سرطان کی شناخت کرسکتے ہیں۔ لیکن یاد رہے کہ کرہ ارض پر نصف سے زائد لوگوں کے جین میں تکراری یا ریپیٹیٹو سیکوئنس سامنے آتے ہیں۔ ماہرین نے اس کی وجوہ پر غور کیا اور اس سے ممکنہ طور پر سرطان کے خطرے پر غور کیا ہے۔

ماہرین نے سوا ارب کے قریب سیکوئنسس کو پڑھا جس میں کمپیوٹر پروگرام نے مدد کی اور دیکھا کہ 1290 اقسام کی تکرار ہورہی ہے۔ یہ نمونے 1975 مریضوں سے لیے گئے تھے۔ ان میں سرطان کے کئی مریض شامل تھے جو منہ ، گردن، چھاتی، بچہ دانی جگر، معدے اور بڑی آنت کے سرطان میں مبتلا تھے۔

حیرت انگیز طور پر سافٹ ویئر نے جگر اور پھیپھڑوں کے سرطان کی درست نشاندہی کی جو مرض کے پہلے درجے میں موجود تھے۔ اس سے ایک جانب توجینیاتی علم کی روشنی میں سرطان کی شناخت کی نئی راہ نکلی بلکہ جینیاتی علم کی مزید افادیت بھی سامنے آئی ہے۔

تاہم اس علم کی بنا پر ایک قابلِ اعتماد ٹیسٹ کی تیاری میں ابھی کچھ وقت لگ سکتا ہے۔