اسلام آباد ہائی کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو بنی گالا سب جیل سے اڈیالہ جیل منتقل کرنے کا حکم دے دیا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے بشریٰ بی بی کی اڈیالہ جیل منتقلی کی درخواست منظور کر لی۔
عدالت نے بشریٰ بی بی کو سب جیل میں رکھنے کا نوٹیفکیشن غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ بشریٰ بی بی کو بنی گالا سب جیل رکھنے کا نوٹیفکیشن غیر قانونی ہے۔
واضح رہے کہ عدالت نے گزشتہ ہفتے فریقین کے دلائل کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا، بشریٰ بی بی نے بنی گالہ سے اڈیالہ جیل منتقلی کی درخواست دائر کر رکھی تھی۔
عدالت کے سامنے جیل حکام نے جیل میں گنجائش نا ہونے اور سیکیورٹی ایشو کی وجہ سے منتقل نا کرنے کا مؤقف اختیار تھا۔
گزشتہ سماعت کا احوال
2 مئی کو بشریٰ بی بی کی بنی گالہ سے اڈیالہ جیل منتقلی کی درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سماعت کی تھی، سماعت کے دوران بشریٰ بی بی کے وکیل نے چیف کمشنر اسلام آباد کا سب جیل کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دینے کی استدعا کی تھی۔
بشریٰ بی بی کے وکیل عثمان ریاض گل نے کہا تھاکہ اڈیالہ جیل سے بنی گالہ سب جیل منتقلی سے متعلق متعلقہ حکام کی کوئی ہدایت شامل نہیں تھی ، چیف کمشنر نے جو نوٹیفکیشن جاری کیا وہ متعلقہ حکام یعنی سپرٹینڈنٹ اڈیالہ جیل کی ہدایات نہیں تھیں، نہ صوبائی حکومت نے کوئی ایسی ہدایت جاری کی نہ آئی جی جیل خانہ جات نہ کوئی ہدایت کی۔
بشریٰ بی بی کے وکیل نے کہا کہ بنی گالہ سب جیل منتقلی کا چیف کمشنر کا نوٹیفکیشن غیر قانونی ہے۔
عدالت نے سوال کیا تھا کہ ایک صوبے سے دوسرے صوبے منتقلی کا کیا پراسس ہوتا ہے۔
بشریٰ بی بی کے وکیل نے کہا تھا کہ قید کی جگہ کا تعین ٹرائل کورٹ نے کرنا تھا، چیف کمشنر نے نہیں، بشری بی بی کی قید کا حکم نامہ اڈیالہ جیل کا تھا ۔
بشریٰ بی بی کے وکیل نے چیف کمشنر کا بنی گالہ سب جیل منتقلی کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دینے کی استدعا کی، جس پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے بشریٰ بی بی کے وکیل سے کہا کہ جیل رولز پڑھ لیں وہ کیا کہتے ہیں۔
وکیل نے کہا تھا کہ بشریٰ بی بی ٹرائل کورٹ کے آرڈر کے مطابق اڈیالہ جیل گئیں جو سپرٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو بھیجا گیا تھا ، بعد میں وزارت داخلہ کے حکم پر چیف کمشنر نے منتقلی کا غیر قانونی نوٹیفکیشن جاری کیا ۔
بعدازاں بشریٰ بی بی کے وکیل عثمان ریاض گل کے دلائل سننے کے بعد جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔




















