اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈز کیس میں بانی پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190ملین پاؤنڈریفرنس کیس کی سماعت ہوئی۔
چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری نے درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کیا۔
سماعت کے دوران ایڈووکیٹ امجد پرویز نے دلائل دیے کہ اس کیس میں 59 میں سے 39 گواہوں کے بیانات ہو چکے ہیں جبکہ نیب کے اسپیشل پراسیکیوٹرنے کہا کہ نیب کے دس گواہوں کو ترک کر دیا گیا ہے۔
وکیل امجد پرویز نے کہا کہ اس کیس میں مزید چھ سے آٹھ گواہوں کے بیانات ہونے ہیں، کیس اگرحتمی مرحلے میں ہو تو ضمانت کے بجائے ٹرائل کورٹ کو ڈائریکشن دی جاتی ہے، ٹرائل کورٹ کو ڈائریکشن دی جاتی ہے کہ وہ کیس کا جلد فیصلہ کرے۔
ایڈووکیٹ سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ آپ نیب کی جانب سے جمع کرایا گیا تحریری جواب بھی دیکھ لیں، ملک ریاض فیملی اور این سی اے فیملی کے درمیان معاہدہ ہوا، شہزاد اکبر اگر کلیم کرتا ہے کہ وہ پیسہ لے کر آیا تو اس سے پوچھیں، شہزاد اکبر کا سارا کچھ بانی پی ٹی آئی کے کھاتے میں کیوں ڈال رہے ہیں؟
سماعت کے دوران نیب پراسیکیوٹرنے دلائل مکمل کیے جبکہ سردار لطیف کھوسہ نے جواب الجواب دلائل دیے۔
جسٹس طارق جہانگیری نے کہا کہ آپکے پاس اسکا کوئی دستاویز نہیں، ساری زبانی باتیں ہیں، آپ سے پہلے پوچھا تھا کہ فریزنگ یا ڈی فریزنگ کا آرڈر آپکے ہے، آپ نے کہا کہ اُن میں سے کوئی دستاویز آپکے پاس موجود نہیں ہے، کیا آپکے پاس آؤٹ آف کورٹ سیٹلمنٹ کے کوئی شواہد موجود ہیں؟ آپ صرف وہ بات کریں جس کے آپ کے پاس شواہد موجود ہیں۔
چیف جسسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ مائی لارڈ کا سوال بہت سادہ ہے مجھے سمجھ نہیں آ رہی آپ جواب کیوں نہیں دے رہے، آپ تو اپنے دستاویزات میں اس سوال کا جواب دے بھی چکے ہیں۔




















