اسلام آباد ہائی کورٹ نے اسلام آباد کے الیکشن ٹربیونل تبدیل کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ الیکشن ٹربیونل کیوں تبدیل کیا، الیکشن کمیشن کو جوابدہ ہونا ہے۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامر فاروق نے عامر ڈوگر کی الیکشن ایکٹ کے سیکشن 151 (جس کے تحت الیکشن کمیشن کو ٹریبونل تبدیلی کا اختیار ہے) کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے الیکشن ٹریبونل تبدیل کرنے کے فیصلے پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے اہم ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے خود فیصلہ نہیں کرنا تھا بلکہ سڑک کے پار (سپریم کورٹ) جانا تھا۔
چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ کچھ خدا کا خوف کریں، قانون کو قانون رہنے دیں، اپنے آپ سے قانون نا بنائیں، ٹریبونل تبدیلی کا کوئی طریقہ کار ہوتا ہے، جج کی جانبداری ثابت کرنا ہو گی ورنہ توہین عدالت کی کارروائی کا سامنا کریں۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ الیکشن کمیشن کے تحریری حکمنامے کو چیلنج کریں تو دیکھ لیتے ہیں، محض تعصب کا الزام لگا کر کسی جج سے کیس نہیں لیے جا سکتے اور اگر الزام غلط ثابت ہوا تو توہین عدالت کی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔
چئف جسٹس عامر فاروق نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے سوال کیا کہ اگر کسی عدالتی حکم پر سے اتفاق نہیں کرتے تو اسکے خلاف اپیل دائر کریں، تو کیا تین مہینے بعد اب نئے سرے سے یہ کیس شروع ہو گا؟ سال پہلے یہی قانون ختم کیا (ریٹائرڈ ججوں کا بطور ٹریبیونل تعیناتی) تو اب اچانک وہی قانون کیسے بنا دیا گیا؟
اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے جس طرح کیسز ٹرانسفر کیے، ایسے ٹرانسفر نہیں ہو سکتے تھے، کل ماتحت عدالت کا جج غلط فیصلہ کر دے تو اسے تبدیل کر دیا جائے گا؟ کیس منتقلی کا گراؤنڈ تعصب ہے، وہ آپ کہہ رہے ہیں کہ نہیں، اگر تعصب کا اعتراض ہو تو وہ بھی پہلے متعلقہ جج کے سامنے رکھا جاتا ہے۔
چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ٹریبونل سے متعلق نوٹیفکیشن کسی کے پاس نہیں تو میڈیا کے پاس کہاں سے آیا؟ میڈیا رپورٹس کے مطابق دو ٹریبونلز آپ نے بنائے ہیں ایک بہاولپور اور ایک راولپنڈی کے لیے، جن گراؤنڈز کے اوپر آپ نے تبدیلی کی ہے اس پر عدالت کو مطمئن کرنا ہوگا۔
چیف جسٹس نے وکیل الیکشن کمیشن سے مکالمہ کیا کہ اس طرح کی چیزوں سے آپ نیا پریسیڈنٹ بنانے جارہے ہیں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے الیکشن کمیشن اور ایڈشنل اٹارنی جنرل کو حکم دیا کہ ٹریبونل کے جج کا تعصب ثابت کرنا ہو گا، 2 بجے تک الیکشن کمیشن ریکارڈ لے کر آئے۔
چیف جسٹس عامر فاروق نے اسلام آباد کی حد تک قائم ٹریبونل تبدیلی کے الیکشن کمیشن کے کل رات جاری ہونے والے فیصلوں کی سرٹیفائڈ کاپیاں منگوا لیں اور جسٹس (ر) شکور پراچہ کے ٹریبونل کا نوٹیفکیشن بھی پیش کرنے کا حکم دیا۔
عامر فاروق نے جسٹس (ر) شکور پراچہ پر مشتمل الیکشن ٹریبونل پر سوالات اٹھا دیے اور کہا کہ تعصب اور کیس سننے سے معذرت پر بہت سی نظائر قائم ہو چکیں، ثابت کرنا ہو گا کہ جج جانبدار کیسے ہے۔
عدالت میں موجود پی ٹی آئی اور سرکاری وکلاء سے نوٹیفکیشن مانگا گیا جو دونوں کے پاس نہیں تھا تو جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ جب نوٹیفکیشن الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر نہیں تو میڈیا پر کیسے جاری ہو گیا؟




















