Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

سپریم کورٹ نے مبارک ثانی کیس میں وفاقی حکومت کی درخواست منظور کرلی

سپریم کورٹ نے مبارک ثانی کیس میں وفاقی حکومت کی درخواست منظور کرلی، عدالت نے چھ فروری اور چوبیس جولائی کے فیصلوں سے متنازع پیراگراف حذف کر دیے۔

عدالتِ عظمٰی نے ٹرائل کورٹ کو مقدمہ میں عائد دفعات کا قانون کے مطابق جائزہ لینے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے کہا کہ حذف شدہ پیراگراف کسی عدالت میں بطور نظیر پیش نہیں کیے جا سکتے۔

سپریم کورٹ نے پیراگراف نمبر 42 اور7 سمیت 49 سی کو فیصلے سے حذف کردیا۔ عدالتِ عظمٰی نے صرف ملزم مبارک ثانی کی ضمانت کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔ باقی سب حذف کردیا گیا ہے۔

 سپریم کورٹ کا فیصلہ چیف جسٹس پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے پڑھ کر سنایا۔ کہا کہ میں کوئی غلطی سے بالاترنہیں ہوں۔

عدالت میں علماء کی جانب سے تینوں پیراگرافس کو خذف کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔ نظرثانی فیصلے کے خذف کردہ پیراگرافس میں قادیانیوں کی ممنوعہ کتاب، قادیانیوں کی تبلیغ سے متعلق ذکر کیا گیا تھا۔

مولانا فضل الرحمان نے عدالت میں رائے دی تھی کہ سپریم کورٹ صرف خود کو ضمانت تک محدود رکھے۔

مبارک ثانی ضمانت کیس میں سپریم کورٹ میں پنجاب حکومت کی جانب سے دائر نظر ثانی درخواست پر سماعت میں  مفتی تقی عثمانی ترکیہ سے بذریعہ ویڈیو لنک سپریم کورٹ میں پیش ہوئے، چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سماعت کی۔

چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے مبارک ثانی کیس میں مولانا فضل الرحمان سے کہا کہ عدالتی فیصلے میں کوئی غلطی یا اعتراض ہے تو بتائیں، دیگر اکابرین کو بھی سنیں گے۔ اس کے ساتھ ہیں مولانا فضل الرحمان کو روسٹرم پر بلایا گیا۔

 جمعیت علما اسلام (جے یو آئی) ف کے سربراہ  مولانا فضل الرحمن روسٹرم پر آئے تو چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ اگر ہم سے کوئی غلطی ہوجائے تو اس کی اصلاح بھی ہونی چاہیے، پارلیمان کی بات سر آنکھوں پر ہے۔

قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آئین کی پچاسویں سالگرہ پر وہ خود پارلیمنٹ میں گئے، آپ کا شکریہ آپ ہمیں موقع دے رہے ہیں، کبھی کوئی غلطی ہو تو انا کا مسئلہ نہیں بنانا چاہیے، جنہوں نے نظرثانی درخواست دائر کی ان کا شکریہ ادا کیا۔

مولانا فضل الرحمان نے چیف جسٹس سے مکالمے کے دوران کہا کہ عدالتی فیصلے پر مذہبی جماعتوں، علماء کرام نے رائے دی ہیں، جو تحفظات ہیں سب آپ کے سامنے ہیں، پہلی بار عدالت کے سامنے کھڑا ہوا ہوں۔

مولانا فضل الرحمان نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے کہا کہ آپ شکایت کا ازالہ کر رہے ہیں، یہ بھی تاریخ کا حصہ ہے، جس پر قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ نے نظرثانی کی درخواست دی ہم نے فوری لگا دی۔

 عدالت نے مفتی تقی عثمانی، مولانا فضل الرحمان، مفتی شیر محمد اور موجود علماء سے معاونت لینے کا فیصلہ کیا۔ عدالت نے ٹرائل کورٹ کو مقدمے میں عائد دفعات کا قانون کے مطابق جائزہ لینے کا حکم دیا اورصرف ملزم مبارک ثانی کی ضمانت کافیصلہ برقراررکھاہے۔

سپریم کورٹ کا تحریری فیصلہ

بعدازاں سپریم کورٹ نے مبارک ثانی کیس میں وفاق کی اپیل کا تحریری فیصلہ جاری۔ سپریم کورٹ کی جانب سے 2 صفحات پرمختصرفیصلہ اردو میں جاری کیا گیا۔

مختصرتحریری فیصلے میں کہا گیا کہ وفاقی کی اپیل منظورکی جاتی ہے، مبارک ثانی کیس کا تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیاجائےگا۔

سپریم کورٹ نے حکم نامے میں کہا کہ نظرثانی فیصلے کے حذف شدہ پیراگراف کوعدالتی نظیرکے طورپرپیش نہیں کیاجا سکتا، عدالت 6 فروری، 24 جولائی کے فیصلے میں اعتراض شدہ پیراگراف حذف کرتی ہے، ٹرائل کورٹ ان پیراگراف سے متاثرہوئے بغیرقانون کے مطابق فیصلہ کرے۔

متعلقہ خبریں