لاہور ہائی کورٹ نے کنٹونمنٹ بورڈ لاہورکو وراثتی اراضی کے انتقال پراضافی چارجز وصولی سے روک دیا۔
عدالت نے کنٹونمنٹ بورڈ کے جاری خط کو تاحکم ثانی معطل کرتے ہوئےوفاقی حکومت اورلاہورکنٹونمنٹ بورڈ کے ایگزیکٹو افسر سے جواب طلب کرلیا۔
جسٹس شمس محمود مرزا نے کیس کی سماعت کی، درخواست گزار جمیل احمد کے وکیل تفضل رضوی نے دلائل دیے۔
درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ وراثتی زمین کے انتقال کے لیے کنٹونمنٹ بورڈ میں درخواست دی، کنٹونمنٹ بورڈ نے ترقیاتی فنڈ اور دیگرفندز کی مد میں بھاری رقم جمع کرانے کی ہدایت کی۔
وکیل نے مؤقف اپنا کہ کنٹونمنٹ بورڈ کی جانب سے رقوم کا تقاضا غیرآئینی اورغیرقانونی اقدام ہے۔ عدالت کنٹونمنٹ بورڈ کی جانب سے اضافی چارجز کے خط کو کالعدم قرار دے۔




















