اسلام آباد: سپریم کورٹ کے آئینی بنچ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائلز سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ آرمی ایکٹ کا اطلاق صرف فوج پر ہوتا ہے، فوجی افسران کو بنیادی حقوق اور انصاف ملتا ہے یا نہیں ہم سب کو مدنظر رکھیں گے۔
جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بنچ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل سے متعلق کیس کی سماعت کی۔
سماعت کے آغاز پر وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آرمی ایکٹ اسپیشل قانون ہے اور اسپیشل قوانین کےشواہد اور ٹرائل کا طریقہ کار مختلف ہوتا ہے۔
جسٹس نعیم افغان نے ریمارکس دیے کہ عام تاثر ہے کہ فوجی عدالت میں ٹرائل صرف سزا دینے کی حد تک ہوتا ہے، مناسب ہوتا کہ آپ آگاہ کر دیتے کہ فوجی عدالتوں میں ٹرائل کن مراحل سے گزرتا ہے، بلوچستان ہائی کورٹ میں کورٹ مارشل کی خلاف مقدمات سنتا رہا ہوں، کورٹ مارشل میں مرضی کا وکیل کرنے کی سہولت بھی ہوتی ہے، فوجی عدالتوں کا ٹرائل بھی عام عدالت جیسا ہی ہوتا ہے۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ فوجی عدالت میں بطور وکیل صفائی پیش ہوتا رہا ہوں، ملزم کیلئے وکیل کیساتھ ایک افسر بطور دوست بھی مقرر کیا جاتا ہے، ٹرائل میں وکلاء کے دلائل بھی شامل ہوتے اور گواہان پر جرح بھی ہوتی، فرق صرف اتنا ہے کہ فوجی عدالت میں جج افسر بیٹھے ہوتے ہیں۔
جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ معاملہ بنیادی حقوق اور آرٹیکل 10 اے کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے، وکالت اور بطور جج میرا مجموعی تجربہ 38 سال کا ہے، میں آج بھی خود کو پرفیکٹ نہیں سمجھتا، فوجی عدالت میں بیٹھا افسر اتنا پرفیکٹ ہوتا ہے کہ وہ اتنی سخت سزا کا تعین کر سکے؟ آرمی ایکٹ کا اطلاق صرف فوج پر ہوتا ہے، فوجی افسران کو بنیادی حقوق اور انصاف ملتے ہیں یا نہیں ہم سب کو مدنظر رکھیں گے۔
جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ اس نکتے پر بھی وضاحت کریں کہ فوجی عدالت میں فیصلہ کون لکھتا ہے؟ میری معلومات کے مطابق کیس کوئی اور سنتا ہے اور سزا جزا کا فیصلہ کمانڈنگ افسر کرتا ہے، جس نے مقدمہ سنا ہی نہیں وہ سزا جزا کا فیصلہ کیسے کر سکتا ہے؟
جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ فوجی عدالتوں کے فیصلے کیخلاف اپیل ایک حد تک سنی جاسکتی ہے، فوجی عدالتوں کے فیصلے کیخلاف اپیل میں صرف بدنیتی اور دائرہ اختیار دیکھا جاسکتا ہے، فوجی عدالتوں کے فیصلے کیخلاف اپیل میں میرٹس زیر بحث نہیں آسکتے، ہماری افواج شاید سات لاکھ سے زائد افراد پر مشتمل ہیں۔
خواجہ حارث نے کہا کہ فوجی عدالتوں کے فیصلوں کو بنیادی حقوق کے نکتے پر بھی چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔
جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اس حساب سے تو آرمی ایکٹ کا اطلاق مزید مختصر کرنا ہوگا پھیلانے کے بجائے، سوال تو ان سات آٹھ لاکھ فوجی جوانوں کے حقوق کا بھی ہے، ہم یہاں عام شہری اور فوجی جوان سب کو انصاف دینے کیلئے بیٹھے ہیں، فوج میں جن کیخلاف فیصلہ آئے ان کو بھی دوسری عدالتوں میں اپیل کا حق ہونا چاہیے۔
خواجہ حارث نے دلائل میں کہا کہ آرمی ایکٹ صرف ان افراد پر لاگو ہوتا ہے جو آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہوں، ہر دہشتگرد پر بھی آرمی ایکٹ کا اطلاق نہیں ہوتا۔
جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ کیا فوجی عدالتوں نے ٹرائل انہی ایف آئی آرز کی روشنی میں کیا جو تھانوں میں درج ہوئی تھیں؟ تعزیرات پاکستان اور اے ٹی اے کے تحت درج مقدمات پر کارروائی فوجی عدالت کیسے کر سکتی؟ جو تین ایف آئی آرز کی کاپی ہمیں دی گئی ہے ان میں آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی دفعات نہیں ہیں۔
وکیل وزارت دفاع نے کہا کہ تفتیش کے بعد مزید دفعات شامل کی جا سکتی ہیں، جس پر جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ مزید دفعات شامل کرنے کا الگ سے طریقہ کار موجود ہے، کیا پولیس تفتیش پر ہی انحصار کیا گیا تھا؟ خواجہ حارث نے کہا کہ جب ملزم فوجی تحویل میں جائے تو وہاں تفتیش کا اپنا نظام ہے۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے کہا کہ عدالت کو صرف تین مقدمات پیش کیے ہیں، مجموعی طور پر 9 مئی کے 35 ایف آئی آرز اور 5 ہزار ملزمان ہیں، فوجی عدالتوں میں صرف ان 105 افراد کا ٹرائل ہو جن کی موجودگی ثابت تھی۔
بعدازاں فوجی عدالتوں کے کیس کی مزید سماعت پیر تک ملتوی کر دی گئی، تاہم وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث اپنے دلائل جاری رکھیں گے۔




















