Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

26ویں ترامیم کو پارلیمنٹ یا سپریم کورٹ کا فیصلہ ہی ختم کرسکتا ہے، جسٹس محمد علی مظہر

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں بینچز کے اختیارات کے کیس سے متعلق جسٹس محمد علی مظہر نے کہا ہے کہ 26ویں ترامیم کو پارلیمنٹ یا سپریم کورٹ کا فیصلہ ہی ختم کرسکتا ہے۔

سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کے رکن جسٹس محمد علی مظہر نے بینچز کے اختیارات کے کیس کا 20 صفحات پر مشتمل اضافی نوٹ جاری کردیا۔

جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ قوانین کے آئینی ہونے یا نہ ہونے کا جائزہ صرف آئینی بینچ لے سکتا ہے، کسی رہگولر بینچ کے پاس آئینی تشریح کا اختیار نہیں، آئینی بینچ نے درست طور پر دو رکنی بینچ کے حکمنامے واپس لئے۔

اضافی نوٹ میں کہا گیا کہ 26ویں ترامیم اس وقت آئین کا حصہ ہے، ترامیم میں سب کچھ کھلی کتاب کی طرح واضح ہے، ہم اس ترامیم پر آنکھیں اور کان بند نہیں کر سکتے۔

جسٹس علی مظہر نے اپنے اضافی نوٹ میں کہا کہ یہ درست ہے کہ ترامیم چیلنج ہو چکی اور فریقین کو نوٹس بھی جاری ہوچکے، کیس فل کورٹ میں بھیجنے کی درخواست کا میرٹس پر فیصلہ ہو گا۔

اضافی نوٹ کے مطابق 26 ویں ترامیم کو پارلیمنٹ یا سپریم کورٹ فیصلہ ہی ختم کر سکتا ہے، جب تک ایسا ہو نہیں جاتا، معاملات اس ترامیم کے تحت ہی چلیں گے۔

جسٹس علی مظہر کا کہنا تھا کہ آئینی تشریح کم از کم پانچ رکنی آئینی بینچ ہی کرسکتا ہے، کسی ریگولر بینچ کو وہ نہیں کرنا چاہیے جو اختیار موجودہ آئین اسے نہیں دیتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ دو رکنی بینچ کے ٹیکس کیس میں بنیادی حکم نامے واپس ہو چکے، بنیادی حکمناموں کے بعد کی ساری کارروائی بے وقعت ہے۔

واضح رہے کہ آئینی بینچ نے جسٹس منصور اور جسٹس عقیل عباسی کے حکم نامے واپس لیے تھے، تاہم جسٹس محمد علی مظہر نے آئینی بینچ کے فیصلے سے اتفاق کرتے ہوئے نوٹ جاری کیا۔

متعلقہ خبریں