پاکستان میں نظر انداز ہونے والے سابق اسپنر ظفر گوہر اب انگلینڈ کرکٹ ٹیم میں شمولیت کے لیے مضبوط امیدوار بن کر ابھرے ہیں۔
30 سالہ ظفر گوہر اس وقت انگلینڈ میں جاری کاؤنٹی چیمپئن شپ کے کامیاب ترین اسپنرز میں شامل ہیں اور مڈل سیکس کی نمائندگی بطور مقامی کھلاڑی کر رہے ہیں۔ وہ برطانوی شہریت حاصل کرچکے ہیں جس کے باعث اب وہ انگلینڈ کرکٹ ٹیم کی نمائندگی کے اہل ہوگئے ہیں۔
ظفر گوہر کبھی پاکستان کرکٹ کا ابھرتا ہوا ستارہ سمجھے جاتے تھے لیکن مواقع کی کمی اور بدقسمتی کے باعث وہ قومی ٹیم میں جگہ نہیں بناسکے۔ 2015 میں یاسر شاہ کے زخمی ہونے کے بعد انہیں حیران کن طور پر پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم میں شامل کیا گیا تھا۔
اس وقت سابق پاکستانی اسپنر فیصل آباد میں ڈومیسٹک میچ کھیل رہے تھے کہ انہیں رات تین بجے کی فلائٹ کے لیے لاہور پہنچنے کا کہا گیا۔
ظفر گوہر نے اس وقت ایک انٹرویو میں بتایا تھا ’’یہ میرے لیے خواب کی طرح تھا لیکن میں تھکا ہوا تھا۔ رات گئے تک ٹریول تفصیلات کا انتظار کرتا رہا پھر کہا گیا کہ آرام کرو۔ میں صبح بروقت نہ جاسکا اور اگلی صبح تمام ذمہ داری مجھ پر ڈال دی گئی جس کے بعد میں ٹوٹ گیا‘‘۔
اس واقعے کے بعد اگرچہ انہوں نے پاکستان کی جانب سے ایک ون ڈے (2015) اور ایک ٹیسٹ (2021) میں کھیلا لیکن انہیں مستقل موقع نہیں مل سکا۔
2022 میں گلوسٹرشائر کے لیے کھیلتے ہوئے انہوں نے47 وکٹیں اور 500 رنز بنائے مگر پاکستان کے اس وقت کے چیف سلیکٹر نے واضح طور پر کہہ دیا کہ کاؤنٹی پرفارمنس سلیکشن کے لیے اہم نہیں۔ اس رویے سے دلبرداشتہ ہوکر ظفر گوہر نے ملک سے ہجرت کرنے کا فیصلہ کیا۔
چونکہ انہیں گزشتہ تین برس سے پاکستان کی نمائندگی کا موقع نہیں ملا اور اب وہ برطانوی پاسپورٹ بھی رکھتے ہیں۔ اس لیے وہ اب انگلینڈ کی ٹیم کے لیے کھیلنے کے اہل ہیں۔
2025 کی کاؤنٹی چیمپئن شپ کے ابتدائی چار میچز میں وہ 15 وکٹیں حاصل کرچکے ہیں، جو ان کی موجودہ فارم کا ثبوت ہے۔
اس موقع پر ان کا کہنا ہے ’’مجھے لگتا ہے کہ اب میں اپنے کیریئر کی بہترین فارم میں ہوں۔ میں نے سنا تھا کہ انگلینڈ میں اسپنرز کے لیے وکٹ لینا مشکل ہوتا ہے لیکن میں نے وکٹیں لیں‘‘۔
انہوں نے ماضی کو یاد کرتے ہوئے مزید کہا ’’تب میں نے فیصلہ کیا تھا کہ اب اپنی قسمت آزماؤں گا۔ مجھے علم ہے کہ انگلینڈ کے لیے منتخب ہونا بہت بڑا چیلنج ہے لیکن میں چیلنجز سے محبت کرتا ہوں‘‘۔




















