غیر ملکی خبر رساں ادارے نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ اسپیس ایکس سے قبل مائیکروسافٹ نے بھی کرسر کو خریدنے پر غور کیا تھا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق مائیکروسافٹ نے مصنوعی ذہانت پر مبنی کوڈنگ اسٹارٹ اپ ’’کرسر‘‘ کو خریدنے کے لیے ایک ممکنہ معاہدے پر غور کیا تھا تاہم کمپنی نے اس پیشکش کو آگے نہیں بڑھایا۔
یہ بات ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسپیس ایکس نے اعلان کیا ہے کہ وہ کرسر کو 60 ارب ڈالر میں خریدنے کا معاہدہ کرچکا ہے جو سال کے آخر تک مکمل ہوسکتا ہے۔ معاہدے کے مطابق اگر ڈیل مکمل نہ ہوئی تو اسپیس ایکس کو کمپنی کو 10 ارب ڈالر ادا کرنا ہوں گے۔
رپورٹس کے مطابق مائیکروسافٹ مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے مقابلے میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کررہا ہے تاہم اس شعبے میں فی الحال کرسر، اوپن اے آئی اور اینتھروپک جیسی کمپنیاں نمایاں ہیں۔
مائیکروسافٹ پہلے ہی اپنی کوڈنگ سہولت کے ذریعے ڈویلپرز میں مقبولیت حاصل کرچکا ہے لیکن اس کا کردار زیادہ تر سرمایہ کاری اور کلاؤڈ سروسز تک محدود رہا ہے۔
دوسری جانب اسپیس ایکس اور کرسر کے درمیان معاہدے سے قبل سرمایہ کاری کے عمل میں شامل افراد کو اس پیش رفت پر حیرت ہوئی۔ اسپیس ایکس نے حالیہ ہفتوں میں کرسر کو کمپیوٹنگ سہولیات بھی فراہم کی تھیں۔
کمپنی کے مطابق کرسر کی ٹیکنالوجی کو مزید وسعت دینے کے لیے اسپیس ایکس کے ساتھ اشتراک کیا جارہا ہے تاکہ دنیا کا بہترین کوڈنگ اور اے آئی نظام تیار کیا جاسکے۔
یاد رہے کہ مائیکروسافٹ کے شیئرز میں اس سال کمی دیکھی گئی ہے جب کہ کمپنی کے مطابق اس کی کوڈنگ سروس کے لاکھوں صارفین ہیں جو تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔
اسی طرح دیگر اے آئی کمپنیوں نے بھی اس شعبے میں بڑی ترقی حاصل کی ہے اور ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت پر مبنی کوڈنگ ٹولز کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔




















