Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

فرنچ رکن پارلیمنٹ کی متعصبانہ حرکت، سڑک سے گزرتی مسلم خاتون کی تصویر کو اے آئی سے تبدیل کر دیا

سوشل میڈیا صارفین اور ناقدین کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا

فرانس کی دائیں بازو کی جماعت نیشنل ریلی سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمنٹ ژولین اودول کو ایک مسلم خاتون کی تصویر مصنوعی ذہانت کے ذریعے تبدیل کرنے پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اصل تصویر میں ایک نوجوان مسلم خاتون سڑک عبور کرتی دکھائی دیتی ہے۔ خاتون نے حجاب کے ساتھ لمبا گلابی لباس پہن رکھا ہے جبکہ کانوں میں ہیڈ فون اور پاؤں میں ایڈیڈاس کے جوتے بھی موجود ہیں۔

رپورٹس کے مطابق تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد فرانسیسی رکن پارلیمنٹ ایلی دی وور نے اسے ’آزادی‘ کے کیپشن کے ساتھ شیئر کیا۔

بعد ازاں اسی تصویر کو مصنوعی ذہانت کی مدد سے تبدیل کیا گیا اور مسلم خاتون کے حجاب کو ہٹا کر پیش کیا گیا، جس پر سوشل میڈیا صارفین اور ناقدین کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا۔

ناقدین نے سوال اٹھایا کہ اگر کسی شخص کی حقیقی تصویر میں اس کی مرضی کے بغیر مصنوعی ذہانت کے ذریعے مذہبی شناخت تبدیل کردی جائے تو اسے آزادی کا نام کیسے دیا جاسکتا ہے؟

ناقدین کے مطابق اے آئی ٹیکنالوجی کو کسی فرد کی شناخت، لباس یا مذہبی علامت کو مسخ کرنے کے لیے استعمال کرنا آزادی اظہار کے بجائے ذاتی اور مذہبی آزادیوں پر سوال اٹھاتا ہے۔

یہ معاملہ فرانس میں مذہبی آزادی، حجاب اور مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال سے متعلق پہلے سے جاری حساس بحث کو بھی مزید نمایاں کرتا ہے جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ سیاسی شخصیات کی جانب سے اے آئی سے تبدیل شدہ تصاویر کا استعمال معاشرے میں مذہبی تقسیم اور تعصبات کو بڑھا سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں