Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

سب متفق ہیں، پیپلزپارٹی کے بغیر بھی A-140 اکثریت سے پاس کراسکتے ہیں، خالد مقبول

کراچی کے عوام نے گزشتہ روز سڑکوں پر نکل کر اپنا فیصلہ ریکارڈ کرادیا ہے، رہنما ایم کیو ایم

کراچی: ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ 18ویں ترمیم کے آرٹیکل 140-A پر ن لیگ سمیت سب متفق ہیں اور پیپلزپارٹی کے بغیر بھی اس کو اکثریے سے پاس کراسکتے ہیں۔

خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پاکستان میں زیادہ سے زیادہ انتظامی یونٹس ہونے چاہیے جب کہ خاندانی حکومتوں اور موروثی سیاست کے خاتمے کا وقت آگیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے عوام نے گزشتہ روز سڑکوں پر نکل کر اپنا فیصلہ ریکارڈ کرادیا ہے۔ پاکستان کو اب موجودہ حالت میں نہیں چلایا جاسکتا، جاگیردارانہ جمہوریت ملک کا مستقبل نہیں ہوسکتی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے، اس لیے ملک میں زیادہ سے زیادہ انتظامی یونٹس قائم کرنے کی ضرورت ہے۔

رہنما ایم کیو ایم نے کہا کہ مصنوعی اکثریت کے ذریعے سندھ کے عوام کو غلام بنانے کا سلسلہ بند کیا جائے۔ کراچی سندھ کی آبادی کا 37 فیصد نہیں بلکہ تقریباً 57 فیصد ہے جب کہ 1970 کے بعد سے سندھ کے شہری علاقوں کی آبادی کم بتائی جاتی رہی ہے۔

خالد مقبول صدیقی نے الزام عائد کیا کہ سندھ میں مصنوعی اکثریت کے ذریعے نسل پرستوں کی حکومت قائم ہے۔ ایم کیو ایم کے کارکنوں کو ہر دور میں مخالفتوں اور مشکلات کا سامنا رہا ہے تاہم جب بھی پاکستان کی حرمت پر سوال آیا، ایم کیو ایم کا ہر رکن پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا۔

خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز ہونے والی ریلی نے بہت سی سازشوں اور منصوبوں کو خاک میں ملادیا ہے۔ اب شہر میں کسی مصنوعی قیادت کو لانے کا کوئی امکان نہیں رہا، ہمارے نزدیک فیصلہ ہوچکا ہے۔

رہنما ایم کیو ایم نے مزید کہا کہ سب متفق ہیں کہ پیپلز پارٹی کے بغیر بھی آئینی ترمیم کے آرٹیکل 140-A کو اکثریت سے منظور کرایا جاسکتا ہے۔

متعلقہ خبریں