Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

کیا پاکستان میں ڈسکارڈ پر پابندی لگ سکتی ہے؟

ڈسکارڈ کو پہلے ہی صارفین کی عمر کی تصدیق سے متعلق طریقہ کار اور رازداری کے مسائل کا سامنا رہا ہے۔

پاکستان میں کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا کے استعمال کو محدود کرنے کے لیے بڑھتے ہوئے اقدامات کے باعث ڈسکارڈ پر بھی مستقبل میں پابندی یا سخت ضوابط لاگو ہونے کے امکانات پر بحث شروع ہوگئی ہے۔

پنجاب اسمبلی نے ستمبر 2026 میں متفقہ قرارداد کے ذریعے 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا کے استعمال پر مؤثر قانونی پابندی کی سفارش کی جب کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی سے تمام پلیٹ فارمز پر عمر کی تصدیق کا نظام نافذ کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

یہ صورتحال ڈسکارڈ کے لیے اس لیے اہم ہوسکتی ہے کہ پلیٹ فارم پہلے ہی صارفین کی عمر کی تصدیق سے متعلق طریقہ کار اور رازداری کے مسائل کا سامنا کرچکا ہے۔

اکتوبر 2025 میں ڈسکارڈ نے بتایا تھا کہ اس کے ایک بیرونی خدمات فراہم کرنے والے ادارے سے متعلق حفاظتی واقعے میں تقریباً 70 ہزار صارفین کی سرکاری شناختی دستاویزات کی تصاویر متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

کمپنی کے مطابق واقعہ براہ راست ڈسکارڈ کے نظام میں نہیں بلکہ تیسرے فریق کی خدمات میں پیش آیا تھا۔

بعد ازاں بعض حملہ آوروں نے لاکھوں شناختی دستاویزات تک رسائی کا دعویٰ کیا تاہم ڈسکارڈ نے ان اعداد و شمار کو مسترد کرتے ہوئے تقریباً 70 ہزار صارفین کے متاثر ہونے کی تصدیق کی۔

پاکستان میں اگر عمر کی تصدیق سے متعلق سخت قوانین نافذ کیے جاتے ہیں تو ڈسکارڈ سمیت تمام متعلقہ پلیٹ فارمز کو نئے تقاضوں پر عمل کرنا پڑسکتا ہے۔

تاہم موجودہ طور پر پاکستان میں ڈسکارڈ پر پابندی عائد کرنے کا کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ پنجاب اسمبلی کی قرارداد بنیادی طور پر 16 سال سے کم عمر بچوں کے تحفظ اور عمر کی تصدیق کے نظام سے متعلق سفارش ہے۔

ماہرین کے مطابق آئندہ صورتحال کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ وفاقی حکومت عمر کی تصدیق اور بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق قانون سازی کس شکل میں کرتی ہے اور متعلقہ ادارے اس پر کس طرح عمل درآمد کراتے ہیں۔