نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کے انجینئروں نے ایک ایسی اسمارٹ گلاسز تیار کیے ہیں جو صحت کی نگرانی جیسے اہم کام انجام دیتے ہیں تاہم اس کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ یہ ڈیوائس کسی بیٹری سے نہیں بلکہ پلکیں جھپنکنے کی توانائی سے چارج ہوتی ہے۔
یہ بات تو سب ہی جانتے ہیں آنکھیں ہر منٹ میں تقریباً 14 سے 20 مرتبہ پلکیں جھپکاتی ہیں اور ان میں سے ہر حرکت سے پیدا ہونے والی توانائی ضائع ہو جاتی ہے اسی حرکی توانائی کو استعمال کرنے کے لیے نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کے انجینئروں نے ایک نیا طریقہ تلاش کیا ہے۔
صحت کی نگرانی کرنے والی ڈیوائسز عموماً ہاتھوں میں گھڑی یا بینڈ کی صورت میں پہنی جاتی ہے تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ اس ضمن میں گلاسز متعارف کرائے گئے ہیں۔
گلاس ٹینگ نامی یہ اسمارٹ گلاسز نہ صرف پلک جھپکنے کی حرکت سے توانائی حاصل کرتے ہیں بلکہ مسکرانے، جبڑوں کی حرکت یہاں تک کہ بھنویں اٹھانے سے پیدا ہونے والی توانائی کو بھی استعمال کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسمارٹ گلاسز اب چہرے بھی پہچانے گے، میٹا نے نئی ٹیکنالوجی پر کام شروع کردیا
اس کے سینسر ان حرکات کے ساتھ ساتھ نبض بھی ریکارڈ کرتے ہیں، جس سے دانت پیسنے کی عادت، تھکاوٹ اور قلبی صحت سے متعلق معلومات حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

اس مقصد کے لیے محققین نے ایسے سینسر استعمال کیے جنہیں ٹرائبو الیکٹرک نینو جنریٹرز کہا جاتا ہے یہ باریک آلات اسٹیٹک الیکٹریسٹی یعنی جامد بجلی پیدا کرکے توانائی حاصل کرتے ہیں۔ یہ وہی قسم کی بجلی ہے جس کی وجہ سے کبھی غبارہ بالوں سے چپک جاتا ہے۔
جب دو مختلف مادے، مثلاً سینسر اور پہننے والے کے چہرے کی جلد، ایک دوسرے کو چھوتے ہیں اور پھر الگ ہوتے ہیں، تو ان کے درمیان الیکٹرانوں کا تبادلہ ہوتا ہے، جس سے ایک مختصر برقی چارج پیدا ہوتا ہے۔
گلاس ٹینگ کے لچک دار سینسرز کئی تہوں پر مشتمل ہیں جو چہرے کی حرکت کے ساتھ ایک دوسرے کو چھوتی اور پھر الگ ہو جاتی ہیں چہرے کی یہی حرکت سینسرز کو چلانے کے لیے درکار میکانی توانائی فراہم کرتی ہے۔
عینک پر تین سینسر نصب کیے گئے ہیں
تحقیقی ٹیم نے عینک کے فریم پر تین سینسر لگائے ہیں:
ناک کے پل پر سینسر: یہ ناک کے قریب موجود شریان کے پاس نصب ہے اور نبض، پلک جھپکنے اور بھنویں اٹھانے کی حرکات کو ریکارڈ کرتا ہے۔
کنپٹی پر سینسر: یہ کنپٹی پر جلد کے نیچے موجود سطحی عارضی شریان کے اوپر لگایا جاتا ہے۔ یہ نبض اور جبڑے کی سرگرمی کو مانیٹر کرتا ہے۔
کان کے قریب سینسر: یہ سینسر چبانے اور دانت بھینچنے جیسی حرکات کا پتا لگاتا ہے جبکہ ہر حرکت کا برقی سگنل مختلف ہوتا ہے۔
چونکہ یہ ڈیوائس ابھی اپنے ابتدائی مراحل میں ہے اس لیے نبض کی رفتار سے دل کی دھڑکن سو فیصد درست نوٹ نہیں کی گئی تاہم محققین کا کہنا ہے اسے مستقبل میں مزید بہتر بناکر اس کی درستگی میں اضافہ کیا جائے گا۔
فی الحال گلاس ٹینگ اپنے جمع کردہ ڈیٹا کو بلوتوتھ کے ذریعے اسمارٹ فون یا ٹیبلٹ پر بھیجتا ہے۔ تاہم، تحقیقی ٹیم مستقبل میں اس رابطے پر انحصار ختم کرنا چاہتی ہے تاکہ ڈیٹا کی پروسیسنگ خود عینک کے اندر ہوسکے۔
اس طرح یہ کسی جسمانی سرگرمی یا طبی طور پر اہم واقعے کی نشاندہی خود کرے اور بیٹری کے بغیر ہی اپنی ذہانت استعمال کرتے ہوئے فوری طور پر صارف کو آگاہ کر سکے۔



















