Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

خیبرپختونخوا کے تمام سرکاری اسکولوں کی عمارتوں کا سروے؛ 26 اکتوبر تک رپورٹ طلب

‘معائنے کے بعد اسکولوں کی عمارتوں کو تین زمروں میں تقسیم کیا جائے گا’

اسلام آباد: خیبرپختونخوا حکومت نے سرکاری اسکولوں کی عمارتوں کی ساختی حفاظت یقینی بنانے کے لیے صوبے کے تمام اضلاع میں تکنیکی ٹیموں کے ذریعے تفصیلی معائنے کا فیصلہ کرلیا محکمہ مواصلات و تعمیرات کو 26 اکتوبر 2026 کی دوپہر 12 بجے تک جامع رپورٹس جمع کرانے کی ہدایت کردی گئی۔

محکمہ ایلیمنٹری و ثانوی تعلیم خیبر پختونخوا نے محکمہ مواصلات و تعمیرات (سی اینڈ ڈبلیو) سے تمام اضلاع کے لیے اہل تکنیکی ٹیمیں نامزد کرنے کی درخواست کی ہے۔

مراسلے کے مطابق یہ فیصلہ پشاور میں الخیر ایجوکیشن سسٹم دیر کالونی میں کلاس روم کی چھت کرنے کے افسوسناک واقعے کے تناظر میں کیا گیا ہے، واقعے میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہوا تھا جبکہ طلبہ اور اساتذہ بھی زخمی ہوئے تھے۔

مراسلے میں بتایا گیا کہ نامزد تکنیکی ٹیمیں متعلقہ ضلعی تعلیمی حکام کے تعاون سے سرکاری اسکولوں کی عمارتوں کا تفصیلی معائنہ کریں، معائنے کے دوران چھتوں، دیواروں، شہتیروں، بنیادوں، سیڑھیوں اور عمارت کے دیگر تعمیراتی حصوں کی حالت کا جائزہ لیا جائے گا جبکہ عمارتوں میں موجود ممکنہ نقائص اور حفاظتی خطرات کی نشاندہی کریں گی۔

حکام کے مطابق معائنے کے بعد اسکولوں کی عمارتوں کو تین زمروں میں تقسیم کیا جائے گا، اگر کسی عمارت سے طلبہ یا عملے کی جان کو فوری خطرہ لاحق ہو تو سروے مکمل ہونے کا انتظار کیے بغیر متعلقہ ضلعی حکام کو آگاہ کیا جائے، خطرناک عمارتوں کے حوالے سے ضروری حفاظتی اقدامات کیے جائیں گے جن میں عمارت تک رسائی محدود کرنا یا اس کا استعمال عارضی طور پر معطل کرنا بھی شامل ہو سکتا ہے۔

مراسلے کے مطابق معائنے کے بعد ہر اسکول کے لیے بلڈنگ سیفٹی کلیئرنس سرٹیفکیٹ این او سی بھی جمع کرایا جائے گا، محکمہ مواصلات و تعمیرات کو ہدایت کی گئی ہے کہ تمام اضلاع کی جامع معائنہ رپورٹس جمع کرائی جائیں، ان رپورٹس میں عمارتوں کی درجہ بندی، نشاندہی شدہ نقائص اور اصلاحی اقدامات کی تفصیلات شامل ہوں گی۔

مراسلے میں مزید بتایا گیا کہ تمام رپورٹس 26 اکتوبر 2026 کو دوپہر 12 بجے تک جمع کرانا ہوں گی تاہم متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ طلبہ، اساتذہ اور دیگر عملے کی جان و سلامتی یقینی بنانے کے لیے معائنے کا عمل ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے۔

متعلقہ خبریں