موبائل فون میں جاسوسی سافٹ ویئر کی تنصیب کا خطرہ بڑھتا جارہا ہے کیونکہ سائبر حملہ آور بعض اوقات صارف کے کسی مشکوک لنک پر کلک کیے بغیر بھی فون تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔
ٹیکنالوجی میگزین وائرڈ کے مطابق ایسے حملوں سے بچنے کے لیے فون کا نظام جدید رکھنا، غیر محفوظ ایپلی کیشنز سے گریز کرنا اور حفاظتی اقدامات اپنانا ضروری ہے۔
جاسوسی سافٹ ویئر فون میں داخل ہونے کے بعد پیغامات پڑھنے، کی بورڈ پر لکھی جانے والی معلومات محفوظ کرنے، اسکرین کی تصاویر لینے، اطلاعات کی نگرانی اور بینکنگ ایپلی کیشنز تک رسائی حاصل کرنے کی صلاحیت رکھ سکتا ہے۔
ایسے حملوں میں صحافیوں، سماجی کارکنوں، سرکاری عہدیداروں اور کاروباری شخصیات کو خاص طور پر نشانہ بنایا جاسکتا ہے تاہم عام صارفین بھی خطرے سے محفوظ نہیں۔
1۔ موبائل فون کا نظام اور ایپلی کیشنز اپڈیٹ رکھیں
فون کے نظام اور ایپلی کیشنز کو باقاعدگی سے اپڈیٹ کرنا سیکیورٹی کی خامیوں سے بچنے کا اہم طریقہ ہے۔ خودکار اپڈیٹ کی سہولت فعال رکھیں اور نئی حفاظتی اصلاحات دستیاب ہوتے ہی نصب کریں۔
2۔ غیر محفوظ ایپلی کیشنز اور لنک سے بچیں
نامعلوم افراد کی جانب سے بھیجے گئے مشکوک لنکس نہ کھولیں اور غیر معتبر ذرائع سے ایپلی کیشنز ڈاؤن لوڈ نہ کریں۔ اینڈرائیڈ فون میں گوگل پلے اسٹور اور آئی فون میں ان کے اپنے ایپ اسٹور کو ترجیح دیں۔ ایپلی کیشنز کو دی جانے والی اجازتوں کا بھی جائزہ لیتے رہیں۔
3۔ فون کے اضافی حفاظتی فیچرز فعال کریں
جن افراد کو سائبر حملوں کا زیادہ خطرہ ہو، وہ فون میں موجود خصوصی حفاظتی سہولیات استعمال کریں۔ آئی فون میں لاک ڈاؤن موڈ جب کہ اینڈرائیڈ میں جدید حفاظتی سہولیات بعض خطرات کم کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔
4۔ فون کی غیر معمولی سرگرمیوں پر نظر رکھیں
اگر فون اچانک گرم ہونے لگے، سست ہوجائے یا اس کا کیمرا اور مائیکروفون غیر متوقع طور پر فعال ہوں تو اس کی جانچ کروائیں۔ تاہم یہ علامات لازماً جاسوسی سافٹ ویئر کی موجودگی کا ثبوت نہیں۔ کمپنی کی جانب سے موصول ہونے والی حفاظتی تنبیہات کو بھی نظر انداز نہ کریں۔
5۔ خطرے کی صورت میں ماہرین سے مدد لیں
اگر فون پر جاسوسی حملے کا ٹھوس شبہ ہو تو سائبر سیکیورٹی کے ماہر سے رابطہ کریں۔ فون دوبارہ چلانے سے بعض سرگرمیاں عارضی طور پر رک سکتی ہیں لیکن اس سے نقصان دہ سافٹ ویئر کے مکمل خاتمے کی ضمانت نہیں ملتی۔ حساس معلومات یا شواہد محفوظ رکھنے کے لیے فون کا تمام ڈیٹا فوراً حذف کرنے سے بھی گریز کریں۔
موبائل فون کو جاسوسی سافٹ ویئر سے محفوظ رکھنے کے لیے کوئی ایک طریقہ مکمل ضمانت نہیں دیتا تاہم بروقت حفاظتی اقدامات خطرات کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔




















