پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے معاملے پر حکومت کی لارجربنچ بنانے کی درخواست مسترد کردی گئی ہے جبکہ الیکشن کمیشن اور گورنر کو جواب جمع کرانے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں پنجاب میں صوباٸی اسمبلی کے فوری الیکشن کرانے کی درخواست پر جسٹس جواد حسن نے سماعت کی ۔
سماعت کے آغاز پر عدالت کا کہنا تھا کہ عدالت نے اپنے فیصلے پر عمل درآمد کرانا ہے، آئین سے اوپر کوئی چیز نہیں ہے اور عدالت اپنا ذہن بتا چکی اس کیس کو پھینکنا نہیں ہے۔
عدالت نے کہا کہ توہین عدالت کی کارروائی مذاق نہیں ہے تاہم اگر گورنر کےوکیل موجود نہیں ہیں تو الیکشن کمیشن کا جواب دیکھ لیتے ہیں، الیکشن کمیشن آئینی اور غیرجانبدار ادارہ ہے۔
اس موقع پر بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ آئینی طور پر نوے دن میں انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے جس میں سے 48دن گزر گئے اور تھوڑے دن باقی رہ گئے ہیں۔
اس موقع پر الیکشن کمیشن کے وکیل نے تحریری جواب داخل کرنے کےلئے مہلت کی استدعا کردی جس پر ریمارکس دیتے ہوئے عدالت کا کہنا تھا کہنوے دن میں انتخابات کرانا آئینی ذمہ داری ہے، عدالت نے بتانا ہے کہ آئین اور عدالتی فیصلے موجود ہیں۔
وکیل الیکشن کمیشن نے استدعا کی کہ مجھے تیاری کا تو وقت دیاجائے جس پر عدالتکا کہنا تھا کہعدالت کو پتہ ہے آپ قابل وکیل ہیں تیاری کےبغیر دلائل دے سکتے ہیں۔
اس موقع پر الیکشن کمیشن کے وکیل نے بتایا کہ الیکشن کمیشن نے انتخابی شیڈول کےاجراء کےلئے گورنر پنجاب کو خط لکھا اور الیکشن کمیشن نے اپنی آئینی ذمہ داری ادا کردی۔
انہوں نے بتایا کہ الیکشن کمیشن نے گورنر کو 9 اور 10 اپریل کی تاریخ مقرر کرنے کی تجویز دی اور خط میں واضع کیاکہ انتخابات 90 دن میں ہونا آئینی تقاضا ہے ۔
انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ضمنی انتخابات اور عام انتخابات میں بڑا واضع فرق ہے،خالی ہونے والی سیٹ پرضمنی انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کا اپنا اختیار ہے اسی لئے الیکشن کمیشن نے ضمنی انتخابات کا شیڈول جاری کیا۔
اس موقع پر عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت گورنر کو الیکشن کرانے کا نہیں کہے گی لبکہ الیکشن کمیشن کو آئین کےمطابق ہدایات جاری کرے گی اور میری عدالت سے جوفیصلہ ہوتا ہے اس پر عمل ہوجاتا ہے۔
جسٹس جواد حسن کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلے پر عمل درآمد میں رکاوٹ آ سکتی ہیں تاہم عدالت چیف سیکرٹری اور آئی جی کو بلاکرپوچھ لیتی ہے
اس موقع پر وکیل اظہر صدیق نے بتایا کہ انتخابی شیڈول جاری کرنے کےلئے صدر مملکت نے الیکشن کمیشن کو خط لکھ دیا ہے اور بیرسٹر علی ظفر نے بتایا کہ الیکشن کرانا آئینی مینڈیٹ ہے جس کے لئے تین آپشنز موجود ہیں کہعدالتی فیصلے، آئین اور تمام فریقین 90 دن میں انتخابات کرانے پرمتفق ہیں اور اب بات رہ گئی ہے کہ تاریخ کا اعلان کس نے کرنا ہے۔
وکیل الیکشن کمیشن نے بتایا کہ ہم نے انتخابات کرانےکےلئے فنڈز مانگے ہیں اگر فنڈز نہ ملیں تو انتخابات کیسے ممکن ہیں تاہم ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بہتر ہے کہ اس معاملے کو لارجر بنچ کو بھجواء دیا جائے۔
عدلات نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیس چل پڑا ہے اب تو معاملہ منطقی انجام تک پہنچنا ہے،عدالت کیوں نہ آئی جی اور چیف سیکرٹری کو بلالے جس پر بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ اس وقت تک آئی جی اور چیف سیکرٹری کو بلانے کی ضرورت نہیں ہے۔
بعدازاں عدالت نے الیکشن کمیشن کو جواب داخل کرانے کے لئے ایک اور مہلت دے دی اور واضح کیا کہ اگر الیکشن کمیشن نےجواب جمع نہ کرایا تو اس کا حق سلب کرلیا جائے گا۔
الیکشن کمیشن کے وکیل نے بتایا کہ پیر کے روز میں الیکشن کمیشن کا جواب جمع کرادیا جائےگا تاہم اس موقع پر کیس کو لارجر بنچ کو بھجوانے کی استدعا کردی گئی جس پر اعتراض کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان کی پوزیشن کلئیر ہے کہ انہوں نے الیکشن نہیں کروانا اور سب نے سہولیات فراہم کرنے سے انکار کر دیا ہے ۔
اس موقع پر بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ الیکشن تاریخ مقرر کرنا گورنر، الیکشن کمیشن اور صدر مملکت کا اختیار ہے اور اس حوالے سے بہت سارے نظائر موجود ہیں۔
جسٹس جواد حسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہ ہمیں دیر تک بھی بیٹھنا پڑا تو اسے کیس کو سنیں گے، میں شام تک بیٹھا ہوں، صرف ایک جنازے کے لیے جانا ہے اور میں نے ڈویژنل بینچ بھی آج منع کردیا ہے، میں کل بھی بیٹھوں گا۔
بعدازاں بیرسٹر علی ظفر نے عدالتی حکم پر اپنے دلائل کا آغاز کیا تاہم عدالت نے وفاقی حکومت کے وکیل کی لارجر بنچ بنانے کی استدعا مسترد کر دی ۔
علی ظفر نے بتایا کہ انتخابات کرانا اور انتظامات کرنا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے لیکن اگر گورنر الیکشن تاریخ نہیں دیتے تو الیکشن کمیشن از خود تاریخ دے سکتا ہے جبکہ تمام ادارے الیکشن کرانے کےلئے الیکشن کمیشن کےحکم کےتابع ہیں اور ملک بھر کی طرح صوبے کےعوام انتخابی شیڈول جاری ہونے کےمنتظر ہیں۔
اس موقع پر پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے کہا کہ اگر الیکشن نہیں کراتے تو آئین گرتا ہے،آئینی شقوں اور الیکشن ایکٹ کو ملاکرپڑھاجائے تو الیکشن سے انکار ممکن ہی نہیں ہے۔
تحریک انصاف کے وکیل نے کہا کہاگر گورنر تاریخ نہیں دیتا تو پھر صدر کے پاس تاریخ دینے کا اختیار ہے جس پر استفسار کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ لیکن آپ نے یہاں صدر کو تو فریق نہیں بنایا،ہم نے یہاں دیکھنا ہے کہ تاریخ کون دے سکتا اور ابھی الیکشن کمیشن نے الیکشن کروانے سے انکار نہیں کیا، ہے۔
عدالت نے کہا کہ اگر گورنر کہتے ہیں کہ انہوں نے اسمبلی تتحلیل نہیں کی تو نگران حکومت کیسے بنادی اور اگر نگران کابینہ گورنر نے بنائی تو الیکشن شیڈول کیوں نہیں دے رہے جس پر جواب دیتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ جو آئینی شق اپنے مفاد میں ہےاس پر عمل کرکے باقی پرعمل نہیں کررہے۔
عدالت نے کہا کہ آئین کےآرٹیکل 105 سے متعلق گورنر کاجواب آنا ضروری ہے جس پر جواب دیتے ہوئے علی ظفر نے بتایا کہگورنر نےالیکشن کمیشن کو خط لکھ کرفریقین سے مشاورت کی ہدایت کی
اس موقع پر عدالت نے الیکشن کمیشن اور گورنر پنجاب کو کل جواب جمع کرانے کی ہدایت کردی اور کہا کہ عدالت اس کیس کی مزید سماعت 13فروری کو کرے گی اور 13فروری تک سن کر رات گئے تک فیصلہ سنادی گی۔
بعدازاں عدالت نےپنجاب اسمبلی کےانتخابات کرانے کی درخواست پر سماعت کل تک ملتوی کردی۔




















