اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کی عبوری ضمانت میں 26 جولائی تک توسیع کر دی۔
تفصیلات کے مطابق انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے شاہ محمود قریشی کے خلاف تھانہ کھنہ میں درج دو مقدمات کی سماعت کی۔ شاہ محمود قریشی عدالت میں پیش ہوئے۔
جج نے کیس کی تحقیقات میں پیشرفت سے متعلق پوچھا جس پر تفتیشی افسر نے کہا کہ تفتیش ابھی تک جاری ہے۔
دوران سماعت شاہ محمود قریشی کے وکیل علی بخاری ایڈووکیٹ نے کہا کہ اس کیس میں باقی تمام ملزمان کی ضمانت ہوچکی ہے۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر ان کا کوئی کردار نہیں بنتا تو آپ بے گناہ لکھ دیں۔
انسداد دہشت گردی عدالت نے شاہ محمود قریشی کی عبوری ضمانت میں توسیع کرتے ہوئے سماعت 26 جولائی تک ملتوی کردی۔
شاہ محمود قریشی کی گفتگو
تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے پیشی کے بعد انسداد دہشت گردی عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انسداد دہشتگردی عدالت میں پیش ہوا ہوں، عدالت میں تفتیشی افسر نے متضاد موقف اختیار کیا، عدالت نے صاف کہا جب کوئی ثبوت ہی نہیں تو کیس کیوں چلایا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی پارلیمنٹرینرز کی لانچ بھی لانچ سے پہلے ہی فارغ ہوگئی ہے، جو کچھ کل کے پی کے میں ہوا قیادت اس پر نوٹس لے گی۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ قیادت کے نوٹس کی وجہ سے بہت سے ارکان نے اپنے ویڈیو بیانات دے کر پی ٹی آئی پارلیمنٹینرز سے لاتعلقی کا اعلان کردیا ہے۔
اس موقع پر صحافی نے سوال کیا کہ پرویز خٹک نے چیئرمین پی ٹی آئی کی طرف سے الیکشن نہ ہونے کا الزام لگایا وہ الیکشن کیوں نہیں چاہتے؟ اس پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اس سوال کا جواب بھی جلد دے دیں گے۔




















