لاہور ہائیکورٹ میں صدر مملکت کو عام انتخابات کی تاریخ مقرر کرنے کا پابند بنانے کی درخواست دائر کردی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق درخواست مقسط سلیم ایڈووکیٹ نے دائر کی ہے، جس میں صدر کے پرنسپل سیکریٹری، وفاقی حکومت اور الیکشن کمیشن کو فریق بنایا گیا ہے۔
آئین کے تحت اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد صدر مملکت عام انتخابات کی تاریخ مقرر کرنے کے پابند ہیں، نوے روز میں انتخابات کا انعقاد آئینی تقاضا ہے۔
وکیل درخواست گزار سلیم ایڈووکیٹ نے مؤقف اپنایا کہ اسمبلیاں تحلیل ہونے کے باوجود صدر نے ابھی تک انتخابات کی تاریخ مقرر نہیں کی۔ الیکشن کمیشن نے 17 اگست کو انتخابات سے معذرت کا نوٹیفکیشن جاری کیا، نوٹیفکیشن سے تاثر پیدا کیا گیا کہ انتخابات نوے دنوں میں نہیں کرائے جاسکتے۔
وکیل درخواست گزار نے مؤقف پیش کیا کہ انتخابات کی تاریخ مقرر کرنے میں الیکشن کمیشن ککوئی آئینی کردار نہیں، الیکشن کمیشن نے نوٹیفکیشن میں کہا کہ انہوں نے مردم شماری اور نئی حلقہ بندیاں کرنی ہیں۔
سلیم ایڈووکیٹ نے درخواست میں مؤقف اپنایا کہ الیکشن کمیشن کا موقف آرٹیکل 224 شق دو کی خلاف ورزی ہے، حالیہ مرد شماری کے اعداد وشمار چھپ چکے ہیں، ایک سال کی تاخیر سے حلقہ بندیوں کا سلسلہ شروع کیا جا رہا ہے۔
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ عدالت صدر مملکت کو انتخابات کی تاریخ مقرر کرنے کا پابند بنائے۔ عدالت الیکشن کمیشن کو نوے روز میں انتخابات کرانے کا حکم جاری کرئے اور الیکشن کمیشن کا جاری نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیا جائے۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔
ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔




















