چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے ملاقات سے انکار کا معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق عباد الرحمان لودھی ایڈووکیٹ کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر کی صدر مملکت سے ملاقات سے انکار کے معاملے پر سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی گئی ہے۔
درخواست گزار نے اپنے موقف میں کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کا ملاقات سے انکار غیرآئینی قرار دیا جائے۔ الیکشن ایکٹ کی کسی شق کی بنیاد پر صدر کے آئینی اختیار سے انکار ممکن نہیں۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ نگران حکومت کے اختیارات محدود ہوتے ہیں، صدر مملکت 90 دن میں انتخابات کی تاریخ دینے کیلئے نگران حکومت کی سمری کے محتاج نہیں، نگران حکومت کو عوام کا مینڈیٹ حاصل نہیں ہوتا۔
سپریم کورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت قرار دے کہ صدر مملکت ہی 90 کے اندر انتخابات کی تاریخ دینے کے اہل ہیں۔
واضح رہے کہ صدر مملکت عارف علوی نے چیف الیکشن کمیشنر کے نام خط لکھ کر انہیں ملاقات کی دعوت دی تھی تاکہ عام انتخابات کی تاریخ طے کی جا سکے تاہم سکندر سلطان راجہ نے جوابی خط میں کہا تھا کہ صدر مملکت کو انتخابات کی تاریخ دینے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔
چیف الیکشن کمشنر نے اپنے خط میں کہا تھا کہ صدر اس وقت الیکشن کی تاریخ دے سکتے تھے جب وہ خود اسمبلیاں تحلیل کرتے۔
جوابی خط کے بعد صدر مملکت کی جانب سے انتخابات کی تاریخ دینے کا امکان ہے، صدر آئین کے آرٹیکل 48 کی شق 5 کے تحت خود تاریخ دے سکتے ہیں۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں




















