Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

سرکاری ملازم کیخلاف کارروائی ریٹائرمنٹ کے 2 سال کے اندر ہی ممکن ہے، سپریم کورٹ کا فیصلہ

سپریم کورٹ نے سرکاری ملازمین کیخلاف محکمانہ کارروائی سے متعلق جاری فیصلے میں قرار دیا ہے کہ کسی بھی سرکاری ملازم کے خلاف محکمانہ کارروائی ریٹائرمنٹ کے 2 سال کے اندر اندر ہی ہو سکتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کی جانب سے 5 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جسٹس مسرت ہلالی نے تحریر کیا جس میں کہا گیا ہے کہ محمد افضل انجم طور راول ڈیم ڈویژن اسلام آباد میں چیف انجینئر کے عہدے پر تعینات تھے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ محکمہ آبپاشی پنجاب نے محکمانہ کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے ایگزیکٹو انجینئر کو ریٹائرمنٹ کے 3 سال بعد شوکاز نوٹس جاری کیا، ملزم پر مس کنڈکٹ اور کرپشن ہے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

فیصلے کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی نے نومبر 2020 میں یہ تجویز دی کہ ایگزیکٹو انجینئر کی پینشن سے 55 لاکھ روپے ریکور کیے جائیں۔ ٹربیونل نے فروری 2022 میں محکمانہ آرڈر کالعدم قرار دے کر پینشن اور تمام مراعات ادا کرنے کا حکم دیا۔

جسٹس مسرت ہلالی نے فیصلے میں تحریر کیا کہ عدالت کے سامنے یہ سوال تھا کہ کیا کسی شخص کی ریٹائرمنٹ کے تین سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے بعد محکمانہ کارروائی ہو سکتی ہے یا نہیں، پیڈا (PEEDA) ایکٹ 2006 کی شق 21 کے تحت ملازم کی ریٹائرمنٹ کے دو سال کے اندر اندر محکمانہ کارروائی کی جا سکتی ہے۔

فیصلے کے مطابق سپریم کورٹ ایک فیصلے میں اصول طے کر چکی ہے کہ پیڈا قانون کا مقصد اچھی طرز حکمرانی اور سرکاری ملازمین میں خود احتسابی کا حدف حاصل کرنا ہے، یہ قانون حاضر سروس ملازمین اور ان ریٹائر ملازمین کے خلاف محکمانہ کارروائی سے متعلق ہے جن کے خلاف کارروائی ریٹائرمنٹ کے ایک سال کے اندر اندر کی گئی ہو۔

سپریم کورٹ کے فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مذکورہ ملازم دس جنوری 2017 کو ریٹائر ہوا جبکہ اس کے خلاف محکمانہ کارروائی 24 فروری 2020 کو شروع ہوئی، ملازم کے خلاف کاروائی پیڈا ایکٹ 2006 کی خلاف ورزی ہے، سروس ٹربیونل نے قانون کے مطابق درست فیصلہ دیا، اپیل مسترد کی جاتی ہے۔

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں

ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے  کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں

متعلقہ خبریں