Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

سپریم کورٹ میں 60 ہزار مقدمات زیر التواء ہیں، وائس چیئرمین پاکستان بار

پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین ہارون الرشید نے کہا ہے کہ اس وقت عدالت عظمی میں لگ بھگ 60 ہزار مقدمات زیر التواء ہیں، التجا اور یاد دہانی کے باوجود کوئی عملی اقدام نہیں اٹھایا گیا، زیر التوا مقدمات کو سماعت کیلئے کوئی شفاف نظام وضح نہ کیا جاسکا۔

وائس چیئرمین پاکستان بار ہارون الرشید نے فل کورٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کچھ عرصہ سے سپریم کورٹ میں مقدمات میں مختصر فیصلہ کرنے کی ایک نئی روش چل پڑی ہے، اکثر مقدمات میں بروقت تفصیلی فیصلے جاری نہیں ہوتے

انہوں نے کہا کہ یہاں تک کہ کچھ ججز ریٹائرڈ بھی ہوجاتے ہیں، کچھ کیسز میں لارجر بینچ بنے کا حکم ہوا لیکن آج تک وہ لارجر بینچ تشکیل نہیں دیے جاسکے۔

ہارون الرشید نے کہا کہ نامزد چیف جسٹس سے درخواست ہے کہ نئے اور اریجنٹ کیسسز جب فائل ہوں تو اسی ہفتے میں فکس کیے جائیں، کافی تعداد میں ایسے کیسز صرف پہلی سماعت کے منتظر ہیں۔

انکا کہنا تھا کہ ایک عام تاثر ہے کہ چند خاص لوگوں کے مقدمات دائر ہوتے ہیں فورا لگ جاتے ہیں، عام مقدمات کافی دیر کے بعد فکس ہوتے ہیں جس سے عوام مایوس ہوتی ہے۔

وائس چیئرمین نے کہا کہ نامزد چیف جسٹس اس تاثر کو ذائل کریں، ایسا سسٹم تشکیل دیں کہ مقدمات کی فکسیشن بلا تفریق ہو، عام لوگوں کو محروی کا احساس نہ ہو اور اس ادارے پر اعتماد قائم رہے۔

انہوں نے کہا کہ بہت سے مقدمات کا فیصلہ ہوجانے کے باوجود ان کی مسل ہائے مختلف ججز کے چیمبرز میں پڑی ہیں، ان مقدمات کے تحریری حکمنامے بھی ابھی تک نہیں آسکے، اگر یہ اطلاع درست ہے تو میرے اس ریفرنس کو درخواست تصور کیا جائے، وکلاء کی سپریم باڈی کو اس کے متعلق مکمل معلومات فراہم کی جائیں۔

ہارون الرشید نے مزید کہا کہ امید ہے میری اس درخواست کو رجسڑار سپریم کورٹ کے ذریعہ کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جائے گا، وکلاء کے اعلیٰ ترین ادراہ کو معلومات کی رسائی کے حق سے محروم نہیں کیا جائے گا۔

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں

ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے  کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں

متعلقہ خبریں