اسلام آباد کی خصوصی عدالت نے سائفر کیس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کی خصوصی عدالت میں سائفر کیس میں نامزد چیئرمین پی ٹی آئی، شاہ محمود قریشی اور اسد عمر کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت ہوئی۔ اسپیشل پروسیکیوٹر ذوالفقارنقوی خصوصی عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔
سائفر کیس میں آج کوئی مہلت نہیں دونگا، جج
سماعت کے آغاز پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ آج میں کوئی مہلت نہیں دوں گا ہر صورت آج ہی فیصلہ کریں گے، یہ نہیں ہوگا کہ اس کیس کی وجہ سے دوسرے ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں بھی آگے جائیں۔
جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ مجھے کوئی پریشانی نہیں نہ میں کمپرومائز کروں گا، جس کا جو حق ہے میں اسے دوں گا، آپ نے انہیں کیوں شامل تفتیش نہیں کیا، ایف آئی اے نے اسد عمر کے کیس میں تعلق ثابت کرنا ہے، آج کوئی التو نہیں ملنا آج فیصلہ کروں گا۔
سائفر کیس کی سماعت میں وقفہ
ایف آئی اے پروسیکیوٹرز نے سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کی کہا کہ ہم نے سپریم کورٹ جانا ہے، سماعت میں وقفہ کیا جائے، جس پر اسد عمر کی درخواست ضمانت پر سوا دس بجے کا وقفہ کردیا گیا۔
اسد عمر کی ضمانت منظور
سماعت دوبارہ شروع ہونے پر آفیشل سیکرٹ ایکٹ خصوصی عدالت کے جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے سائفر کیس میں اسد عمر کی ضمانت منظور کرلی۔
اسپیشل پروسیکیوٹر کی ساڑھے 12 بجے سماعت مقرر کرنے کی استدعا
اسپیشل پروسیکیوٹر ذوالفقارنقوی کی جانب سے ساڑھے بارہ بجے سماعت مقرر کرنے کی استدعا کی اور کہا کہ ساڑھے بارہ بجے سائفرکیس کی سماعت مقرر کردیں، دیگر اسپیشل پراسیکیوٹرز کو بھی سپریم کورٹ جانا ہے۔
وکیل صفائی سلمان صفدر نے کہا کہ مجھے اجازت دی جائے دلائل دینے کی کیونکہ ہم نے بھی ہائیکورٹ جانا ہے۔
دونوں فریقین کی موجودگی میں ہی کیس کی سماعت ہوگی، جج
جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ سائفرکیس کی درخواست ضمانت پر سماعت تو آج ہوگی، یہ سن لیں۔
وکیل صفائی سلمان صفدر نے کہا کہ ہر سماعت پر اسپیشل پراسیکیوٹرز کوئی بہانا کرتے ہیں، جس پر جج نے کہا کہ دونوں فریقین کی موجودگی میں ہی سائفرکیس کی سماعت ہوگی۔
اسپیشل پراسیکیوٹر نے کہا کہ پراسیکیوشن جیسی ہی فارغ ہوتی ہے جوڈیشل کمپلیکس پہنچ جائے گی۔
پراسیکیوٹر کی سماعت 12 بجے کرنے کی استدعا مسترد
جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے اسپیشل پراسیکیوٹر ذوالفقارنقوی کی استدعا مسترد کردی اور اسپیشل پروسیکیوٹرز کی غیر موجودگی میں درخواست ضمانت پر پی ٹی آئی وکلاء کو دلائل دینے کی اجازت دے دی۔
وکیل چیئرمین پی ٹی آئی کے دلائل
چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت پر وکیل سلمان صفدر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سایفرکیس کا مدعی وزارت داخلہ کا افسر ہے، وزارت داخلہ نے سائفر کیس ہائی جیک کیا، سائفر واشنگٹن سے بھیجا گیا جس کی وصولی وزارتِ خارجہ نے کی۔
وکیل سلمان صفدر نے دلائل میں کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی پر سائفر کیس میں ذاتی مفادات حاصل کرنے کا الزام ہے اور قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کا بھی الزام ہے۔ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا مطلب ہے آپ نے معلومات دشمن ملک سے شیئر نہیں کرنی، ایف آئی اے سے ہمیں انصاف کی امید نہیں ہے آپ نے انصاف کرنا ہے۔
جج نے کہا کہ وزیراعظم کے پاس جو ڈاکومنٹ آیا کیا وہ واپس ہوا یا نہیں؟ یہ کیس ہے، جس پر وکیل نے کہا کہ میرا مقدمہ یہ ہے کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ لگتا ہی نہیں، کیس بنتا ہے تو پوری کابینہ پر بنتاہے، فرد واحد پر نہیں بنتا۔
وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ 7 مارچ 2022 کو سائفر وزارت خارجہ کو موصول ہوا، وزیراعظم ہاؤس کے آفیشلز کی ذمہ داری ہے کہ سائفر کدھر گیا، سائفر کی ذمہ داری وزیراعظم کی نہیں بنتی، ان کے ماتحت کام کرنے والوں کی بنتی، اگر سائفر جرم ہوتا تو 31 مارچ 2022 کو قومی سلامتی کمیٹی کے سامنے کیوں رکھا جاتا؟
وکیل نے دلائل دیے کہ سائفر کا مسئلہ قومی سلامتی کمیٹی میں رکھا گیا، فیصلہ ہوا غیرملکی سفیر سے بات کی جائے گی، سائفر عوام کے سامنے نہیں رکھا گیا نکات شیئر نہیں ہوئے، چیئرمین پی ٹی آئی پر الزام لگایا کہ سائفر کو لہرایا گیا۔
چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل نے کہا کہ وزارتِ خارجہ کے مطابق سائفر ان کے پاس موجود ہے، مجھے با خدا معلوم نہیں تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی سائفر کیس میں گرفتار ہیں، عطا تارڑ نے ٹیلیویژن پر بیٹھ کر کہا چیئرمین پی ٹی آئی سائفر کیس میں جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں، عجیب بات ہے، عطا تارڑ کو چیئرمین پی ٹی آئی کا معلوم ہے، پی ٹی آئی وکلاء کو نہیں۔
سلمان صفدر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ تاحال چیئرمین پی ٹی آئی سے سائفر کیس میں کچھ برآمد نہیں ہوا، کمیٹی متفقہ طور پر فیصلہ کرتی ہے کہ سائفر کے نکات کیا ہیں، کابینہ سائفر کو ڈی کلاسیفائی کرتی ہے، کابینہ کے منٹس ریکارڈ پر موجود ہیں، ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ میں سپریم کورٹ میں سائفرکیس زیر بحث آیا، سپریم کورٹ نے تو نہیں کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف سائفر کیس درج کیا جائے۔
وکیل سلمان صفدر نے چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت پر دلائل مکمل کرلیے اور کمرہ عدالت سے روانہ ہوگئے۔
وزارت خارجہ سے جو سائفر سابق وزیراعظم کو ملا وہ کہاں ہے؟ جج
اسپیشل پروسیکیوٹر رضوان عباسی کمرہ عدالت پہنچ گئے اور جج ابوالحسنات نے ان کو سائفر کیس سے متعلق بریف کیا۔
جج ابوالحسنات نے کہا کہ سوال ہے وزارت خارجہ سے جو سائفر سابق وزیراعظم اور اعظم خان کو ملا وہ کہاں ہے؟
جج ابوالحسنات نے پراسیکیوٹر سے مکالمہ کیا کہ سائفر سابق وزیراعظم نے اپنی کابینہ میں شیئر کی، جب سابق وزیراعظم نے کابینہ کے سامنے سائفر رکھا تو کیوں نہیں روکا گیا؟
وکیل بابر اعوان کے دلائل
وکیل بابراعوان نے چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواستِ ضمانت پر دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ الزام ہے کہ سائفر کے حوالے سے غیرمتعلقہ افراد کے ساتھ کمیونیکیشن ہوئی، سائفر وصول ہوا، رکھا گیا وزارت خارجہ کے سیکرٹری کے پاس خصوصی طور پر ہوتا ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل نے کہا کہ سائفر وزیرخارجہ کے پاس موجود ہے جس کی سربراہی وزیرخارجہ کے سیکرٹری کرتے، کیا سائفر چوری ہوا؟ کیا وزیرخارجہ کے سیکرٹری مدعی ہیں؟ سائفرکیس کا مقدمہ تو وزیرخارجہ کو دائر کرنا بںتا ہے۔
وکیل نے کہا کہ بیرون ملک سے پاکستان کو دھمکی آئے تو وزارتِ خارجہ سو جائے؟ وزارتِ خارجہ نے کابینہ کے سامنے سائفر رکھا جس کو ڈی سیل کرک دوبارہ سیل کردیا گیا، آئین پاکستان کے مطابق وفاقی کابینہ اور قومی سلامتی کمیٹی کے سامنے سائفرکو رکھا گیا۔
چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل نے استفسار کیا کہ میں آپ کو کچھ دکھانا چاہتا ہوں، جس پر جج ابوالحسنات نے کہا کہ کیا آپ مجھے سائفر دکھانا چاہتے ہیں؟ میں آپ کو ابو السائفر دکھانا چاہتا ہوں، معذرت! کمپیوٹر ابو السائفر نہیں دکھا رہا، موبائل پر دکھاتا ہوں۔
وکیل بابر اعوان نے موبائل پر کمرہ عدالت میں ویڈیو دکھائی اور کہا کہ ایک سماعت چل رہی تھی جس پر آپ نے کہا میں دلاور نہیں دلیر ہوں، جس پر جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ دلاور اور دلیر کے دو مختلف معنی ہیں۔
عدالت نے سائفر کیس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں




















