اسلام آباد: اٹک جیل حکام نے چیئرمین پی ٹی آئی کی بیٹوں سے ٹیلیفونک گفتگو کرانے سے انکار کردیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق اٹک جیل سپرنٹینڈنٹ نے خصوصی عدالت برائے آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت اسلام آباد میں توہین عدالت کی درخواست پر جواب جمع کرا دیا ہے۔
جیل سپریڈنٹ نے اپنے جواب میں کہا کہ جیل رولز اجازت نہیں دے دیتے اس لئے ٹیلی فونک گفتگو نہیں کرا سکتے۔
جواب میں کہا گیا کہ 1978 کے جیل رولز میں اسی کوئی شق نہیں جو ملزم کی بیرون ملک ٹیلی فونک گفتگو کی اجازت دے۔
جواب کے مطابق آئی جی جیل خانہ جات کے چھ دسمبر 2022 کے خط کے مطابق جو سیکرٹ ایکٹ ملزمان کو پی سی او کی سہولت نہیں دی جا سکتی۔
اٹک جیل سپرنٹنڈنٹ نے مزید کہا کہ قانون پر عمل کیا میں عدالتی حکم عدولی کا سوچ بھی نہیں سکتا۔
واضح رہے کہ عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کی بیٹوں سے ٹیلی فون یا واٹس ایپ پر گفتگو کروانے کا حکم دیا تھا جس کے بعد جیل حکام کی جانب سے عدالتی حکم پر عمل نا کرنے پر توہین عدالت درخواست دائر ہوئی تھی۔
عدالت نے اٹک جیل سپریڈنٹ سے آج تک جواب طلب کر رکھا تھا، آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر پیر تک سماعت ملتوی کردی۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں




















