Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

پریکٹس پروسیجر ایکٹ؛ “عدلیہ کی آزادی میں ٹیمپرنگ نہیں کی جاسکتی”

درخواست گزار راجہ امیر خان کے وکیل خواجہ طارق رحیم نے سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے اپنے جواب میں کہا ہے کہ عدلیہ کی آزادی میں ٹیمپرنگ نہیں کی جاسکتی۔

تفصیلات کے مطابق درخواست گزار راجہ امیر خان کے وکیل خواجہ طارق رحیم نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ سے متعلق سپریم کورٹ میں جواب جمع کرادیا ہے۔

وکیل خواجہ طارق رحیم نے اپنے جواب میں کہا کہ عدلیہ کی آزادی میں ٹیمپرنگ نہیں کی جا سکتی، پریکٹس قانون تحت ججز تین رکنی کمیٹی سنے بغیر درخواست کو مسترد کردے گی۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کی جانب سے عدالتی معاملات میں مداخلت اختیارات کی آئینی تقسیم کی خلاف ورزی ہے، پارلیمنٹ عام قانون سازی سے آرٹیکل 184/3 کے اختیار کا طریقہ تبدیل نہیں کر سکتی۔

جواب کے مطابق پریکٹس اینڈ پروسیجرل قانون سے عدالتی امورز کی انجام دہی تبدیل نہیں کی جا سکتی، فل سپریم کورٹ 1980 کے رولز میں ترمیم کر سکتی ہے۔

جواب میں وکیل کا کہنا تھا کہ بلا شبہ پارلیمنٹ سپریم ہے، پارلیمنٹ سپریم کورٹ کے معاملات کو ریگولیٹ کرنے کی قانون سازی نہیں کر سکتی۔

وکیل درخواست گزار نے جواب استدعا کی کہ چیف جسٹس آف پاکستان اختیارات کی تقسیم کا قانون پریکٹس اینڈ پروسیجر کالعدم قرار دیں۔

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔

ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے  کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔

متعلقہ خبریں