چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے ہیں کہ سپریم کورٹ کیخلاف پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ اربوں روپے کے ٹیکس مقدمات ہم نے دبا کر رکھے ہوئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے ٹیکس سے متعلق کیس کی سماعت کی۔
چیف جسٹس نے وکیل درخواست گزار سے مکالمہ کیا کہ گزشتہ سال مارچ میں آپکو جواب جمع کرانے کی ہدایت کی گئی تھی، کیوں نہ آپ کو جرمانہ عائد کیا جائے۔
وکیل درخواست گزار نے عدالت میں کہا کہ میں غلطی تسلیم کرتا ہوں۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریماکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کیخلاف پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ اربوں روپے کے ٹیکس مقدمات ہم نے دبا کر رکھے ہوئے ہیں، پھنس جاتے ہیں۔
چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ ٹیکس مقدمات میں آپکی یہ حالت ہے کہ ڈیڑھ سال میں جواب تک جمع نہ کرایا جا سکتا۔
عدالت نے وکیل درخواست گزار کو دس ہزار روپے کا جرمانہ عائد کردیا اور کہا کہ جرمانے کی رقم اپنی مرضی کے خیراتی ادارے میں جمع کروا کر رسید جمع کرائی جائے۔
سپریم کورٹ نے وکیل درخواست گزار کو کیس سے متعلق تحریری جواب جمع کرانے کیلئے آخری مہلت دیدی۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔
ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔




















