اسلام آباد: سائفر کیس سے متعلق آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے خط کے ذریعے وزارتِ قانون سے رائے طلب کر لی۔
تفصیلات کے مطابق سائفر کیس کی کل سماعت جوڈیشل کمپلیکس میں ہوگی یا اڈیالہ جیل راولپنڈی میں؟ اس سے متعلق جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے وزارتِ قانون کو خط لکھ دیا ہے۔
جج ابو الحسنات ذولقرنین کی جانب سے وزارتِ قانون کو سائفر کیس کی سماعت کے لیے لکھے گئے خط میں کہا گیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو عدالت لانے کے لیے کیا کوئی سیکیورٹی خدشہ ہے؟
جج نے اپنے خط میں لکھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی اہم شخصیت، سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی کی سیکیورٹی عدالت کو مدنظر رکھنی پڑے گی۔
جج ابو الحسنات نے وزارتِ قانون کو خط میں مزید لکھا کہ اگر سکیورٹی خدشات نہیں ہیں تو کیس کی سماعت جوڈیشل کمپلیکس میں ہوگی۔
گزشتہ روز سائفر کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی درخواست ضمانت کی اِن کیمرا سماعت کرنے کی استدعا پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
یاد رہے کہ 30 ستمبر 2023 کو ایف آئی اے کی جانب سے سائفر کیس کا چالان آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت میں جمع کروایا گیا جس میں چیئرمین پی ٹی آئی اور وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کو قصور وار قرار دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان ایف آئی اے کے مضبوط گواہ بن گئے۔ اعظم خان کا 161 اور 164 کا بیان چالان کے ساتھ منسلک کیا گیا۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے سائفر اپنے پاس رکھا اور اسٹیٹ سیکرٹ کا غلط استعمال کیا اور سائفر کاپی چیئرمین پی ٹی آئی کے پاس پہنچی لیکن واپس نہیں کی گئی ۔
چالان کے مطابق شاہ محمود قریشی نے چیئرمین پی ٹی آئی کی معاونت کی ۔ چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی 27 مارچ کی تقریر کا ٹرانسکرپٹ منسلک ہے۔27 گواہوں کے 161 کے بیانات بھی قلمبند ہونے کے بعد چالان کے ساتھ منسلک ہیں۔
ذرئع کا مزید کہنا ہے کہ سیکرٹری خارجہ اسد مجید اور سابقہ سیکرٹری خارجہ سہیل محمود، ایڈیشنل سیکرٹری خارجہ فیصل نیاز ترمزی بھی ایف آئی اے کے گواہوں میں شامل ہیں۔ سائفر وزارت خارجہ سے لے کر وزیر اعظم تک پہنچنے تک پوری چین گواہوں میں شامل ہے۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں




















