Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

اڈیالہ جیل میں سائفر کیس کی سماعت بغیر کارروائی ملتوی

چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت سائفر کیس کی سماعت بغیر کارروائی ملتوی کردی گئی۔

تفصیلات کے مطابق جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت سائفر کیس کی سماعت کی۔

شاہ محمود قریشی کے وکلاء بیرسٹر تیمور ملک اور علی بخاری اڈیالہ جیل پہنچے اور چیئرمین پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم بھی اڈیالہ جیل پہنچی۔

سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کے وکلاء کو تاحال اڈیالہ جیل کے اندر جانے کی اجازت نہیں ملی۔

سماعت کے دوران ملزمان میں چالان کی نقول تاحال تقسیم نہ ہو سکی، جس کے بعد کیس کی سماعت 9 اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی۔

عدالت نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں ان کیمرہ پٹیشن موجود ہونے کی وجہ سے سماعت بغیر کارروائی ملتوی کردی۔

اڈیالہ جیل میں پیش ہونے والے وکلاء میں بیرسٹر سلمان صفدر، سردار لطیف کھوسہ، راجہ یاسر، نعیم حیدر پنجوتھہ، بیرسٹر عمیر خان نیازی، چوہدری خالد یوسف، نیا اللہ خان نیازی، رائے محمد علی، بلال عمر بودھلا، جواد اصغر، علی اعجاز بوٹر شامل تھے۔

چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل کی گفتگو

چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چالان کی کاپیاں کسی صورت میں ہم قبول نہیں کریں گے، بحث مکمل ہو چکی ہے، ہائی کورٹ اس کے حوالے سے فیصلہ کرے گی، یہ سماعت ان کیمرہ ہو گا یا پھر عوام کی سماعت سے دور بند کمرے میں ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ یہ چاہتے ہیں کہ یہ باتیں عوام تک نہیں جانی چاہیے، عوام کو اس مقدمے سے باہر رکھنے کی درخواست کو عدالت نے خارج کر دیا ہے، جب تک کوئی فیصلہ نہیں آتا تب تک کوئی سماعت نہیں مانیں گے۔

سلمان صفدر نے کہا کہ کل بھی سپریم کورٹ میں اوپن سماعت ہوئی ساری عوام نے سنی، سائفر کیس کی سماعت اوپن ہونی چاہیے تاکہ عوام حقائق جان سکیں، الزامات لگائے گئے ہیں ان کو عوام کے سامنے بھی ثابت کیا جانا چاہیے۔

انکا کہنا تھا کہ سرکار سارے معاملات کو چھپا رہی ہے، ہم معاملہ ہائی لائٹ کریں گے، بند کمرے میں سماعت نہیں ہونی چاہیے آرٹیکل 10 اے کی خلاف ورزی ہے۔

وکیل نے مزید کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ اس سماعت کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے، چیرمین پی ٹی آئی کی ضمانت کے حوالے سے فوری طور پر فیصلہ کیا جانا چاہیے، آئندہ سماعت کا معاملہ دو سے تین دن میں حل کیا جانا چاہیے۔

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں

ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے  کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں

متعلقہ خبریں