Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

نواز شریف کی حفاظتی ضمانت کی درخواست پر نیب کو نوٹس جاری

اسلام آباد ہائیکورٹ نے العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنس سے متعلق نواز شریف کی حفاظتی ضمانت پر نیب کو کل کیلئے نوٹس جاری کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے نواز شریف کی حفاظتی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کی۔ نیب پراسکییوٹر افضل قریشی عدالت میں پیش ہوئے۔

سماعت کے آغاز پر وکیل امجد پرویز نے مختلف عدالتی فیصلوں کے حوالے سے بتایا کہ نواز شریف کی حفاظتی ضمانت کی درخواست دائر کی ہے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ ابھی ملزم کا اسٹیٹس کیا ہے، آپ کون سے کیس کا حوالہ دے رہے ہیں، امجد پرویز ایڈووکیٹ نے بتایا کہ نواز شریف عدالت کے سامنے سرینڈر کرنا چاہتے ہیں۔

امجد پرویز نے دلائل دیے کہ سپریم کورٹ اور اعلیٰ عدالتوں کے فیصلے موجود ہیں وہ پیش کروں گا، جب کوئی عدالت کے سامنے سرینڈر کرنا چاہتا ہے تو عدالت اسے موقع فراہم کرتی ہے، ماضی میں بھی ایسا ہوتا رہا ہے کہ اشتہاری ملزمان کو سرینڈر کرنے کے لیے حفاظتی ضمانت دی گئی۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ جس کیس کا آپ حوالہ دے رہے ہیں وہ استغاثہ کو سن کر ضمانت دی گئی تھی۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ وکیل امجد پرویز کا چیئرمین پی ٹی آئی کیس کا حوالہ اگر نواز شریف واپس آنا چاہتے ہیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں، میں کسی اور کیس میں موجود ہوں، میں اس کیس کا پراسیکیوٹر ہوں، میں نے انکے دلائل سنے ہیں اگر کوئی ملزم آنا چاہتا ہے تو ہمیں اعتراض نہیں۔

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے نیب پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ کو یہی ہدایات ہیں تو اپیلوں کی پیروی کیوں کر رہے ہیں، آپ کو حفاظتی ضمانت دینے پر کوئی اعتراض نہیں، کل کو آپ کہیں گے کہ فیصلہ ہی کالعدم قرار دے دیں، پھر آپ چیئرمین نیب سے پوچھ لیں کہ آج ہی اپیل بھی طے کر دیتے ہیں۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ وہ جب اپیل فکس ہو گی تو اس وقت ہدایات لے کر دلائل دیں گے۔

عدالت نے نیب کو کل کے لیے نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت کل تک ملتوی کردی۔

اس سے قبل ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنسز سے متعلق مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے حفاظتی ضمانت کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔

 ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنسز سے متعلق سابق وزیر اعظم نواز شریف نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی، تاہم  نواز شریف نے اسپیشل اٹارنی عطاء تارڑ کے ذریعے دونوں درخواستیں دائر کیں۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ نواز شریف 21 اکتوبر کو اسپیشل فلائٹ سے اسلام آباد آرہے ہیں، عدالت پہنچنے کے لیے حفاظتی ضمانت منظور کی جائے۔

نواز شریف کی جانب سے دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ سرنڈر کے لیے حفاظتی ضمانت منظور کی جائے۔ کیسز کا سامنا کرنا چاہتے ہیں عدالت تک پہنچنے کے لیے گرفتاری سے روکا جائے۔

یاد رہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنس میں سزا یافتہ ہیں، احتساب عدالت نے نواز شریف کو دس سال قید اور 80لاکھ پاؤنڈ کی سزا سنائی تھی۔

العزیزیہ ریفرنس میں احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو سات سال قید کی سزا سنائی تھی جبکہ نواز ان کو دس سال کیلئے عوامی عہدے کیلئے بھی نااہل قرار دیا گیا تھا۔

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں

ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے  کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں

متعلقہ خبریں