Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

سانحہ 9 مئی: فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل شروع؛ حکومت نے سپریم کورٹ کو آگاہ کردیا

فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل شروع ہوگیا، اس حوالے سے وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کو متفرق درخواست میں آگاہ کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے عدالت کو متفرق درخواست میں سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل سے متعلق آگاہ کیا گیا۔

وفاقی حکومت کی متفرق درخواست میں کہا گیا کہ 9 اور 10 مئی کے واقعات کی روشنی میں 102 افراد گرفتار کیے گئے، زیرحراست افراد کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹرائل کیا جارہا ہے، جو فوجی عدالتوں میں ٹرائل میں قصوروار ثابت نہ ہوا وہ بری ہوجائے گا۔

متفرق درخواست کے مطابق فوجی عدالتوں میں ہونے والا ٹرائل سپریم کورٹ میں جاری مقدمے کے فیصلے سے مشروط ہوگا، فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے بعد جو قصوروار ثابت ہوگا ان کو معمولی سزائیں ہوں گی جبکہ 9 اور 10مئی کے واقعات میں ملوث جو افراد جرم کے مطابق قید کاٹ چکے انہیں رہا کردیا جائے گا۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ فوجی ٹرائل کے بعد سزایافتہ قانون کے مطابق سزاؤں کےخلاف متعلقہ فورم سے رجوع کرسکیں گے، سپریم کورٹ کے 3 اگست کے حکمنامے کی روشنی میں عدالت کو ٹرائلز کے آغاز سے مطلع کیا جارہا ہے۔

وفاقی حکومت کی متفرق درخواست کے مطابق فوجی تحویل میں لیے افراد کو پاکستان آرمی ایکٹ 1952 اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا تھا، گرفتار افراد جی ایچ کیو راولپنڈی، کورکمانڈر ہاؤس لاہور پر حملے میں ملوث ہیں۔

درخواست میں مزید کہا گیا کہ گرفتار افراد پی اے ایف بیس میانوالی، آئی ایس آئی آفس، سول لائنز فیصل آباد پر حملے میں بھی ملوث ہیں جبکہ گرفتار افراد حمزہ کیمپ، بنوں کیمپ اور گوجرانوالہ کیمپ پر حملے میں ملوث ہونے پر تحویل میں ہیں۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف کیس سماعت کل ہوگی، جسٹس اعجازالاحسن کی سربراہی میں 5 رکنی لارجربینچ کل ساڑھے 11 بجے سماعت کرےگا۔

جسٹس منیب اختر، جسٹس یحیٰی آفریدی، جسٹس مظاہر نقوی اور جسٹس عائشہ ملک بینچ میں شامل ہیں۔

واضح رہے کہ فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف کیس کی گزشتہ سماعت 3 اگست کو ہوئی تھی۔

سانحہ 9 مئی

رواں سال 9 مئی کو قومی احتساب بیورو (نیب) نے پی ٹی آئی کے چیئرمین کو پیرا ملٹری فورس رینجرز کی مدد سے القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار کیا جس کے بعد ملک بھر میں پرتشدد احتجاج کے دوران املاک کی توڑ پھوڑ جلاؤ گھیراؤ دیکھنے میں آیا۔

احتجاج کے دوران مشتعل افراد نے فوجی تنصیبات، بشمول کور کمانڈر لاہور کی رہائش گاہ اور پاکستان بھر میں ریاستی املاک کو نقصان پہنچایا، اس واقعے کے بعد فوج نے اس دن کو ملکی تاریخ کا ایک “سیاہ باب” قرار دیا اور توڑ پھوڑ میں ملوث تمام افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا عزم کیا۔

بعدازاں مزید سخت قدم اٹھاتے ہوئے حکومت نے سول اور فوجی تنصیبات پر حملے اور آتش زنی کرنے والوں کو پاکستان آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ سمیت متعلقہ قوانین کے تحت انصاف کے کٹہرے میں لانے کا فیصلہ کیا سابق وزیر اعظم اور ان کی پارٹی کے کارکنوں کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے۔

22 اکتوبر کو عسکری قیادت نے  فارمیشن کمانڈرز کانفرنس میں کہا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ سانحہ 9 مئی کے منصوبہ سازوں اور ماسٹر مائنڈز کے خلاف قانون کی گرفت مضبوط کی جائے۔ فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے والوں کو پاکستان آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ،جو کے آئینِ پاکستان کے تحت ہیں، کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لا کر کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔

آرمی چیف  سید عاصم منیر نے کہا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اورسیکیورٹی فورسز پر پرُ تشدد حملے، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور سیاسی سرگرمیوں کو روکنے کے بے بنیاد الزامات کا مقصد عوام کو گمراہ کرنا اور مسلح افواج کو بدنام کرکے مذموم سیاسی مفادات کا حصول ہے۔

فارمیشن کمانڈ کانفرنس کے شرکاء نے یوم سیاہ سانحہ 9 مئی کے واقعات کی سخت ترین مذمت کی۔ فورم نے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے ریاست اور ریاستی اداروں کے خلاف نفرت پروان چڑھانے اور ملک میں افراتفری پھیلانے والوں کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔

ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے  کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔

متعلقہ خبریں