سپریم کورٹ آف پاکستان نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل کالعدم قرار دینے کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔
تفصیلات کے مطابق سویلینز کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل کالعدم کرنے کا تفصیلی تفصیلی فیصلہ بینچ کے رکن جسٹس منیب اختر نے تحریر کیا، جو 125 صفحات پر مشتمل ہے۔
جسٹس منیب اختر نے فیصلے کی ابتدا لارڈ ایٹکن کے 1941 کے ایک جملے سے کی، فیصلے میں کہا گیا کہ لارڈ ایٹکن نے اپنی مشہورزمانہ تقریر میں کہا تھا کہ برطانیہ میں بدترین جنگ میں بھی قوانین خاموش نہیں تھے۔
پانچ رکنی بنیچ کی سربراہی جسٹس اعجاز الاحسن نے 23 اکتوبر 2023 کو مختصر حکم نامہ سنایا تھا، جبکہ جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس منیب اختر، جسٹس عائشہ اے ملک، جسٹس مظاہر اکبر نقوی بھی بنیچ کا حصہ تھے۔
مختصر حکم نامہ میں سپریم کورٹ نے سویلین کا فوجی عدالتوں ٹرائل روکتے ہوئے ان کے مقدمات عام عدالتوں میں بھیجنے کا حکم دیا تھا۔
تفصیلی فیصلے کے مطابق سپریم کورٹ نے مختصر حکم نامہ میں سویلینز کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل روکتے ہوئے 9 مئی میں ملوث ملزمان کے مقدمات عام عدالتوں میں بھجوانے کا حکم دیا تھا۔
تفصیلی فیصلے میں مزید کہا گیا کہ برطانیہ میں بدترین جنگ میں بھی قوانین وہی تھے جو حالت امن میں تھے۔
جسٹس یحیی آفریدی
دوسری جانب فوجی عدالتوں میں سویلینز ٹرائل کالعدم قرار دینے کے معاملے پر جسٹس یحیی آفریدی اور جسٹس عائشہ ملک کے بھی اضافی نوٹ جاری کردیے گئے ہیں۔
جسٹس یحیی آفریدی نے اپنے اضافی نوٹ میں لکھا کہ نو مئی ملزمان کا سول عدالتوں میں قانون کے مطابق ٹرائل ہونا چاییے، ایسے کوئی شواہد نہیں مظاہرین نے دفاع پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔
نوٹ میں مزید کہا گیا کہ ریکارڈ سے یہ بھی واضح نہیں کہ مظاہرین بیرونی مداخلت روکنے کے فوج کے کردار میں رکاوٹ بنے، 9 اور 10 مئی کے ملزمان پر آرمی ایکٹ کی دفعات کا اطلاق نہیں ہوتا۔
جسٹس عائشہ ملک
جسٹس عائشہ ملک نے اپنے اضافی نوٹ میں لکھا کہ ریاست کے تینوں ستونوں کو اپنی حدود میں رہنا چاہیے، عدلیہ کی آزادی کیلئے ضروری ہے وہ ایگزیکٹو کے زیر اثر نہ ہو، آفیشل سکرٹ ایکٹ مقدمات کا ٹرائل عام فوجداری عدالتوں میں ہی ہوتا ہے، 9 مئی کے گرفتار 103 ملزمان پر آفیشل سکرٹ ایکٹ کی دفعات نہیں لگائی گئیں، آفیشل سکرٹ ایکٹ کی دفعات نہ ہونے کے باوجود ملزمان کو عسکری حکام کی حوالگی کی درخواستیں دی گئیں۔
اضافی نوٹ میں مزید کہا گیا کہ متعلقہ مجسٹریٹ کو ملزمان کی حوالگی کے حوالے سے بامعانی فیصلہ دینا چاہئے تھا، اٹارنی جنرل نے ان ممالک کی مثالیں دیں جہاں سویلین کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں ہوتا ہے، جمہوریت اور آزادی کی خاطربہتر ہوتا اٹارنی جنرل ان ممالک کی مثال دیتے جہاں ایسا نہیں ہوتا، اٹارنی جنرل نے تسلیم کیا 9 مئی کے ملزمان عام شہری ہیں، اٹارنی جنرل نے یقین دہانی کرائی 9 مئی کے بیشتر ملزمان بری ہو جائیں گے۔




















