Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

سپریم کورٹ نے جڑانوالہ واقعے سے متعلق پنجاب حکومت کی رپورٹ مسترد کر دی

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے جڑانوالہ واقعے سے متعلق پنجاب حکومت کی رپورٹ مسترد کر دی ہے۔

سپریم کورٹ میں اقلیتوں کے حقوق سے متعلق کیس کی ہوئی، پنجاب حکومت نے جڑانوالہ واقعے سے متعلق پیشرفت رپورٹ عدالت میں جمع کرائی، جس کے بعد سپریم کورٹ نے جڑانوالہ واقعے سے متعلق پنجاب حکومت کی رپورٹ مسترد کردی۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ پنجاب حکومت کی رپورٹ ردی کی ٹوکری میں پھینکنے کے قابل ہے، جڑانوالہ واقعے سے متعلق یہ رپورٹ دیکھنے کے بعد مجھے شرمندگی ہو رہی ہے۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سوال کیا کہ جڑانوالہ واقعہ کب ہوا اور اب تک کتنے لوگ پکڑے گئے؟ جس پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے بتایا کہ جڑانوالہ واقعہ 16 اگست 2023 کو ہوا تھا، 22 مقدمات درج، 304 افراد گرفتار ہوئے، 22 میں سے 18 ایف آئی آرز کے چالان جمع ہوئے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ماشاءاللہ سے چھ ماہ میں صرف یہ 18 چالان ہوئے؟ دوسری جگہوں پر جا کر اسلاموفوبیا پر ڈھنڈورا پیٹتے ہیں اور خود کیا کر رہے ہیں؟ غیر مسلموں کے ساتھ جو سلوک بھارت میں ہو رہا ہے وہ کاپی کرنا چاہتے ہیں؟ پولیس نے اپنی آنکھوں کے سامنے سب جلتا دیکھا؟ جڑانوالہ میں بہادر پولیس کھڑی تماشہ دیکھتی رہی۔

چیف جسٹس اور وکیل متروکہ وقف املاک بورڈ میں تلخ کلامی

دوران سماعت چیف جسٹس فائز عیسیٰ اور متروکہ وقف املاک بورڈ کے وکیل اکرام چوہدری میں تلخ کلامی ہوئی۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ حقائق کو عوام کے سامنے آنے سے کیوں روکا جارہا ہے؟ تمام گوردواروں کی تفصیلات اور تصاویر ویب سائٹ پر کیوں نہیں ڈالتے؟

چیف جسٹس پاکستان نے متروکہ وقف املاک بورڈ حکام کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ میری بات پر سر سر کیوں کر رہے ہیں؟ میری بات پر سر سر کیوں کر رہے ہیں؟ انگریز کا دور ختم ہوچکا ہے اب سر سر نہ کیا کریں، غلامی کی زنجیریں توڑ دیں۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ یہ مخصوص اقلیتوں اور عوام کی پراپرٹی ہے، ساری زمینیں ہتھیائی جاتی ہیں اس لئے حقائق چھپائے جا رہے ہیں، پہلے عدالت پر چڑھائی کر دو پھر جج کو سوال بھی نہ پوچھنے دو۔

عدالت نے تمام گردواروں اور مندروں کی تفصیلات ویب سائٹ پر جاری کرنے کی ہدایت کردی۔

سپریم کورٹ نے جڑانوالہ واقعے پر پنجاب حکومت سے نئی رپورٹ طلب کر کے پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن اور پیمرا کو نوٹس جاری کر دیا۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ ملک میں انتہاپسندی،تشدد، دہشتگردی، مذہبی فرقہ واریت اور نفرت کے خاتمے کے لیے حکومت اور بالخصوص میڈیا کردار ادا کرے، میڈیا کو پیمرا آرڈیننس کے سیکشن 20 کے تحت مذہبی ہم آہنگی سےمتعلق خصوصی پیغامات کو نشریات کا حصہ بنائے۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ جڑانوالہ واقعے کے اصل کرداروں کا پنجاب پولیس کو معلوم ہے لیکن وہ کمزوری اور بزدلی کا مظاہرہ کر رہی ہے، حملہ آوروں کو نا روک کر پولیس نے اپنے اوپر سے عوامی اعتماد ختم کیا، بظاہر پنجاب پولیس جڑانوالہ واقعے کے حملہ آوروں سے خوفزدہ دکھائی دی، پنجاب پولیس جڑانوالہ واقعے کی تحقیق پر خاطر خواہ رپورٹ نا دے سکی تو متعلقہ پولیس افسران کو معطل یا فارغ کیا جائے گا اور اٹارنی جنرل آفس کی رپورٹ کو رپورٹ قرار دینا بھی غلط ہو گا۔

عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہ  جڑانوالہ واقعے سے متعلق رپورٹ کو مسترد کیا جاتا ہے، جڑانوالہ واقعے سے متعلق رپورٹ 10 دن میں جمع کرائی جائے، دیگر اقلیتوں کی عبادت گاہوں کی تفصیلات سے متعلق رپورٹ دو ماہ میں جمع کرائی جائے۔

 

بعدازاں کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی گئی۔

 

متعلقہ خبریں