Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

سپریم کورٹ نے ذوالفقار بھٹو ریفرنس پر مختصر رائے کا اردو ترجمہ جاری کردیا

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے ذوالفقار علی بھٹو ریفرنس کی سماعت میں دی گئی اپنی مختصر رائے کا اردو ترجمہ جاری کردیا۔

سپریم کورٹ کی جانب سے مختصر فیصلے میں ذوالفقار علی بھٹو صدارتی ریفرنس میں پوچھے گئے سوالات کے جوابات دیے گیے ہیں۔

متفقہ رائے میں کہا گیا کہ پاکستان کے آئین و قانون کے مطابق انصاف کی فراہمی عدلیہ کا فرض ہے ، بطور جج ہمارا فرض ہے کہ سب کے ساتھ قانون کے مطابق بلا خوف ورغبت انصاف کریں۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ ہماری عدالتی تاریخ میں ایسے کچھ مقدمات ہیں جن کے بارے عوام  سمجھتے ہیں کہ خوف  کی بنیاد پر فیصلے دیے گئے، ایسے فیصلوں میں قانون کے مطابق انصاف نہیں کیا گیا۔

متفقہ رائے کے مطابق خود احتسابی کے لیے انتہائی عاجزی سے ماضی کے غلط اقدامات اور غلطیوں کا سامنا کرنا چاہیے، ماضی کی غلطیوں کو تسلیم کیے بغیر درست سمت میں نہیں جا سکتے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 186کے تحت کسی بھی عوامی مفاد  سے متعلق قانونی  سوال پر صدارتی ریفرنس پر رائے دینا ہوتی ہے، ہمارے سامنے سوال تھا کہ سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو شفاف ٹرائل ملا ، آیا بھٹو ٹرائل کے دوران ڈیو پراسس اور فئیر ٹرائل کے تقاضے پورے کیے گئے۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ: ذوالفقار علی بھٹو کی سزائے موت کا فیصلہ غیر شفاف قرار

متفقہ رائے میں کہا گیا کہ صدارتی ریفرنس سے فوجی آمر ضیا لاحق کی حکومت میں بھٹو کےی سزائے موت کے ٹرائل کو جانچنے کا موقع ملا، صدارتی ریفرنس بھٹو کی سیاسی جماعت  کے دور حکومت میں داخل کیا گیا، اس کے بعد نگران حکومتوں سمیت دیگر سیاسی جماعتو ں کی حکومتیں آئیں لیکن کسی جماعت نے ریفرنس واپس نہیں لیا، یہ اس بات کا اظہار ہے کہ عوام  کی خواہش تھی کہ عدالت اس پر اپنی رائے کا اظہار کرے کہ کیا احمد رضا قصوری کے قتل کے مقدمے میں ذوالفقار علی بھٹو کو فیئر ٹرائل  اور ڈیوو پراسس ملا۔

سپریم کورٹ نے رائے دی کہ ملک کے بڑے قانونی ماہرین کی معاونت سے عدالت اپنی  مختصر رائے دیتی ہے، لاہور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ  میں  کارروائی آئین میں دئیے گئے بنیادی حقوق آرٹیکل 4 اور آرٹیکل 9 اور آرٹیکل 10 اے کے مطابق نہیں تھی، آئین اور قانون میں ایسا کوئی میکنزم موجود نہیں کہ اس اختیار سماعت میں بھٹو فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے۔

متفقہ رائے کے مطابق بھٹو کیس کا فیصلہ سپریم کورٹ سے نظر ثانی مسترد ہونے کے بعد فائنیلٹی اختیار کر چکا ہے، یہ سوال کہ کیا ٹرائل کے دوران جو مواد اور شواہد پیش کیے گئے ان کی بنیاد پر بھٹو کو سزائے موت دی جا سکتی تھی، عدالت کی رائے ہے کہ یہ سپریم کورٹ کا مشاورتی اختیار سماعت ہے، اس اختیار سماعت کے تحت عدالت شہادتوں کا دوبارہ جائزہ لے کر فیصلے کو کالعدم قرار نہیں دے سکتی۔

متفقہ رائے مزید کہا گیا کہ عدالت فیئر ٹرائل نہ ہونے کے حوالے سے بڑی آئینی اور قانونی خامیوں کی  تفصلی وجوہات  میں نشاندہی کرے گی، اسلامی تناظر میں بھٹو ٹرائل کا جائزہ لینے کے سوال پر عدالت کو معاونت فراہم نہیں کی گئی، معاونت فراہم نہ ہونے پر نامناسب ہوگا کہ عدالت اس قانونی سوال پر اپنی رائے دے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز ذوالفقار علی بھٹو صدارتی ریفرنس کے معاملے پر سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی تھی، جس پرا پنی رائے دیتے ہوئے عدالت عظمیٰ نے کہا تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو کو شفاف ٹرائل کا حق نہیں دیا گیا۔

متعلقہ خبریں