اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی دوران عدت نکاح کیس میں سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت کل تک ملتوی کردی۔
ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکا نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی دوران عدت نکاح کیس میں سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت کی۔ بانی پی ٹی آئی کے وکلاء زاہد بشیر ڈار اور مرتضیٰ طوری عدالت میں پیش ہوئے۔
سماعت کے آغاز پر بانی پی ٹی آئی کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ سینئر وکیل سلمان صفدر تھوڑی دیر میں آ رہے ہیں عدالت سماعت میں محتصر وقفہ کر دیں۔
دوسری جانب خاور مانیکا کے جونیئر وکیل زاہد آصف نے بھی استدعا کی کہ 11 بجے عدالت پیش ہوں گے کیس کی سماعت میں وقفہ کیا جائے۔
ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکا نے کہا کہ سماعت سوا نو بجے تک رکھ لیتے ہیں میں خود نوٹ کرلوں گا جو دلائل ہوں گے، اس کیس کا فیصلہ کرنا ہے سلمان صفدر دلائل دیں عدالت نوٹ کر لے گی۔
جج افضل مجوکا نے پی ٹی آئی وکلاء سے استفسار کیا کہ کیا بنا اوپر کیس کا؟ جس پر وکیل زاہد بشیر ڈار نے کہا کہ سر آپ سزا معطلی کی درخواست کے فیصلے کے خلاف اپیل کا پوچھ رہے ہیں، جج نے جواب دیا کہ جی 426 کی درخواست۔
پی ٹی آئی کے وکیل نے کہا کہ ہمیں آپ سے انصاف کی امید ہے فیصلے کے خلاف اپیل دائر نہیں کی، اس کے بعد عدالت نے سلمان صفدر کے آنے تک سماعت میں وقفہ کر دیا۔
وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہونے پر بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ میں آج جزوی دلائل دوں گا باقی کل کے لئے کیس رکھ لیں، سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں کا کیس ہے، آپ کا سزا معطلی کی درخواست پر آرڈر دیکھا ہے میرے کچھ پوائنٹ فیصلے میں تحریر نہیں، اس پر جج افضل مجوکا نے کہا کہ آپ کے پاس پورا ٹائم ہے آج اور کل بھی ہے۔
بانی پی ٹی آئی کے وکیل نے کہاکہ بدنیتی اور فراڈ میں جو چیز مشترکہ ہے وہ ارادہ ہونا ہے، جج افضل مجوکا نے استفسار کیا کہ اگر رجوع کا حق تھا تو وہ ایک سول معاملہ ہے اس کا کریمنل سے کیا تعلق ۔۔ جج افضل مجوکا
وکیل سلمان اکرم راجہ نے جواب دیا کہ یہ کافی نہیں کہ یہ کہہ دینا کہ میں رجوع کر لیتا، اس پر جج افضل مجوکا نے کہا کہ ایک دن نکاح ہوا دوسرے دن خاور مانیکا کو پتہ چل گیا لیکن وہ خاموش رہے۔
وکیل بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ اگر فراڈ ہوا تھا تو اسی وقت عدالت جاتے کہتے میں نے رجوع کرنا تھا، آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ 1992 اور 1994 کی سپریم کورٹ کی ججمنٹ غیر موثر ہے۔
سلمان اکرم راجہ نے سپریم کورٹ کے متعدد فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آپ جن فیصلوں کا ذکر کر رہے ہیں میں ان کی سماعتوں میں بیٹھا کرتا تھا اور میرا ایل ایل ایم کا تھیسیس اسی پر تھا، میں نے یہ نہیں کہا کہ عدت کا دورانیہ 90 دن ہے، سپریم کورٹ نے 39 دن کے بعد اپنے فیصلے سے عورت کو تحفظ فراہم کیا۔
بانی پی ٹی آئی کے وکیل نے کہاکہ مفتی سعید نے بھی کہا کہ عورت کی بات عدت کے حوالے سے حتمی ہے لیکن عدالت میں غلط بیانی کی، 90 دن کا دورانیہ عدت نہیں رجوع کا وقت ہے اسے عورت کے لیے تلوار نہیں بنایا جاسکتا۔
جج افضل مجوکا نے وکیل عثمان ریاض گل سے مکالمہ کیا کہ ایک اور ججمنٹ ہے وہ آپ نوٹ کر لیں آپ آجکل خاموش رہتے ہیں۔
سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیے کہ چار گواہ ہیں ملازم لطیف کے بیان کو ٹرائل کورٹ نے اہمیت دی، مفتی سعید کی گواہی بھی جھوٹی ثابت ہوئی، خاور مانیکا نے لطیف کے بیان پر انحصار کیا اور خود بھی وڈیو بیان پر غلط بیانی کی، دوسرے نکاح کی بات سے بھی یہ ثابت نہیں ہوتا کہ عدت پوری تھی یا نہیں، یہ ایک گھڑی گئی کہانی تھی جس سے بانی پی ٹی آئی کو انتقام کا نشانہ بنایا گیا، یقیناً جج صاحب پر کوئی پریشر تھا کہ فیصلہ سنانے کے دن ہائی کورٹ کو لکھ دیا کہ فیصلہ نہیں سنا سکتا۔
خاور مانیکا کے زاہد آصف ایڈوکیٹ نے کہاکہ کل اور پرسوں ہائی کورٹ میں ہوں 5 تاریخ کو سماعت رکھ لیں، جج نے استفسار کیا کہ سلمان صفدر کتنا ٹائم لیں گے؟ عثمان گل نے بتایا کہ ہم بشریٰ بی بی کی جانب سے دلائل کے لئے ایک دن لوں گا۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت کل 11 بجے تک ملتوی کر دی۔




















