Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ایک جلسہ کرنا ہے تو اُس میں کیا غلط ہے؟ اسلام آباد ہائیکورٹ

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو اسلام آباد میں جلسے کی اجازت سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ ایک جلسہ کرنا ہے تو اُس میں کیا غلط ہے؟

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے پی ٹی آئی کو اسلام آباد میں جلسے کی اجازت سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس عامر فاروق نے سوال کیا کہ پورے ملک میں سیاسی ایکٹویٹیز ہو رہی ہیں تو پی ٹی آئی کو اسلام آباد میں جلسے کی اجازت کیوں نہیں؟

درخواست گزار کے وکیل شعیب شاہین نے عدالت میں بیان دیا کہ پولیس نے 6 جولائی کے جلسے کی جگہ سے  ضبط کیا گیا سامان واپس کرنے کے لیے دس لاکھ روپے لیے۔

وکیل شعیب شاہین نے گزشتہ ہفتے ہونے والے ٹی ایل پی کے فیض آباد والے دھرنے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چار دن ٹی ایل پی والے آئے سڑکیں بھی بند تھیں کوئی مقدمہ کوئی کچھ نہیں، ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ ان کے خلاف مقدمہ درج کریں ہم کہہ رہے ہیں ہمارا بھی حق ہے۔

ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ ہم کہتے ہیں کہ چالیسویں تک جلسہ نہ کریں، جس پر چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل سے استفسار کیا کہ چہلم کب ہے، کیا 14 اگست نہیں منا رہے؟ لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال ہے لیکن ملک میں دیگر ایکٹیوٹیز بھی تو چل رہی ہیں، ایک جلسہ کرنا ہے تو اُس میں کیا غلط ہے؟

چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ چہلم کے بعد آپ کہیں گے بارشیں بہت آ گئیں، پھر کہیں گے سردی بہت ہو گئی، یہ تو پھر نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے ایسا نہ کریں۔

وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ ٹی ایل پی کی بات ان سے کی تو انہوں نے ٹی ایل پی نے کون سا ہم سے پوچھ کر کیا ہے۔

شعیب شاہین کی بات پر چیف جسٹس عامر فاروق مسکرائے اور چیف کمشنر اور درخواست گزار کو دوبارہ ملاقات کی ہدایت دے دی۔

چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ چیف کمشنر کو ہم نے اِنہیں چائے پلانے کیلئے ملاقات کا نہیں کہا تھا، ملاقات کریں اور اُس میں جلسے سے متعلق معاملات طے کریں، میں گزشتہ آرڈر والی ہدایات دہراتے ہوں درخواست نمٹا رہا ہوں۔

بعدازاں عدالت نے پی ٹی آئی کو اسلام آباد میں جلسے کی اجازت سے متعلق کیس میں چیف کمشنر اور درخواست گزار کو دوبارہ ملاقات اور معاملات طے کرنے کی ہدایات کے ساتھ درخواست نمٹادی۔

متعلقہ خبریں