Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

مسئلہ یہ ہے کہ آرمی ایکٹ کے ماتحت جرائم اگر سویلینز کریں تو کیا ہوگا؟ جسٹس جمال مندوخیل

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کیخلاف انٹراکورٹ اپیل پر سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ مسئلہ یہ ہے کہ آرمی ایکٹ کے ماتحت جرائم اگر سویلینز کریں تو کیا ہوگا؟

جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی لارجر بینچ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت کی۔

سماعت کے آغاز پر تحریک انصاف وکیل رہنما حامد خان نے عدالت کو بتایا کہ گزشتہ سماعت پر پاکستان میں مارشل لاء اور ملٹری کورٹس کی تاریخ کا بتایا تھا۔

وکیل رہنما حامد خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی حالات میں سویلینز کو اتنے بڑے پیمانے پر فوجی عدالتوں میں ٹرائل نہیں کیا جاسکتا، فوجی عدالتیں آئینی ترامیم کے بغیر قائم نہیں ہوسکتیں، آئینی ترامیم پر بھی اصول طے شدہ ہیں، اس حوالے سے آئینی ترامیم مخصوص مدت کیلئے ہوسکتی ہے، اس صورت میں فوجی عدالتوں کے فیصلوں کیخلاف اپیل کا حق بھی دیا جانا ضروری ہے۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ایف بی علی کیس میں طے ہوا کہ آرمی ایکٹ فوج کے ممبران کیلئے بنا، ایف بی علی میں یہ بھی کہا گیا کہ آرمی ایکٹ کا سیکشن ڈی اس مقصد کیلئے نہیں بنا،  تنازع یہ ہے کہ وہ کہہ رہے ایف بی علی کیس میں سویلینز کے ٹرائل کی بھی اجازت تھی، آپ کہہ رہے ہیں کہ سویلنز کے کورٹ مارشل کی اجازت نہیں۔

وکیل حامد خان نے کہا کہ فوجی عدالتوں کے حق میں دلائل دینے والوں کا انحصار آئین کے آرٹیکل 8(3) پر ہے، جس پر جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ایف بی علی میں کہا گیا کہ پارلیمان اس معاملے پر 2 سال میں ریوو کر سکتی ہے، آج تک پارلیمان نے اس معاملے پر کچھ نہیں کیا۔

جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تنازع یہ نہیں کہ فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل کیا جائے یا نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ آرمی ایکٹ کے ماتحت جرائم اگر سویلینز کریں تو کیا ہوگا؟ آرمی ایکٹ میں درج جرائم کرنے پر اسکا دائرہ اختیار سویلینز تک بڑھایا جاسکتا ہے یا نہیں۔

پی ٹی آئی وکیل حامد خان نے کہا کہ آرمی ایکٹ میں شامل وہ شقیں جن کے تحت سویلین کا ٹرائل کیا جاتا ہے وہ غیر آئینی ہیں، اب میں اپنے دلائل میں آئین کے آرٹیکل 175(3) کو بیان کروں گا، آئین کے اس آرٹیکل میں واضح لکھا ہے کہ عدلیہ ایگزیکٹو سے الگ ہوگی۔

جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ آپ یہ بتائیں کہ عدلیہ کو ایگزیکٹو سے الگ کس نے کرنا تھا؟ آرٹیکل 175(3) کے تحت عدلیہ ایگزیکٹو سے خود بخود الگ تصور ہوگی؟ عدلیہ کے ایگزیکٹو سے الگ ہونے کی ڈیکلریشن عدلیہ دے گی یا پارلیمان؟

وکیل حامد خان نے جواب دیا کہ آئین کے الفاظ واضح ہیں، پارلیمان کے ڈیکلریشن کی ضرورت نہیں، جس پر جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ سپریم کورٹ کے اکثریتی فیصلے میں کہا گیا کہ فوجی عدالتیں آئین کے آرٹیکل 175(3) کے زمرے میں نہیں آتیں، سپریم کورٹ کے فیصلے میں فوجی عدالتوں کو تاریخی تناظر میں دیکھا گیا۔

جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے مطابق آرٹیکل 175(3) کے تحت عدلیہ خود بخود ایگزیکٹو سے الگ تصور ہوگی، اسکا مطلب ہے کہ اس آرٹیکل کے 14 سال بعد فوجی عدالتیں فوج کے ممبران کیلئے بھی قائم نہیں رہ سکتیں، اس دوران وکیل نے کہا کہ فوجی عدالتیں صرف فوج کے ممبران کے لئے قائم رہ سکتی ہیں۔

جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ اگر ایسا ہے تو پھر اپکو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ فوجی عدالتیں متوازی عدالتی نظام ہیں، یہ بہت اہم ہے کہ اس معاملے میں آرٹیکل 175(3) کو واضح ہونا ہوگا۔

بعدازاں سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں کے کیس کی سماعت کل 11:30 بجے تک ملتوی کر دی، تاہم وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث جواب الجواب جاری رکھیں گے۔

جسٹس امین الدین نے استفسار کیا کہ آپ جواب الجواب کیلئے کتنا وقت لیں گے، جس پر وکیل وزارت دفاع خواجہ حارث نے کہا کہ بہت سے اہم نکات سامنے آئے ہیں ایک ہفتہ تو لگ جائے گا۔

متعلقہ خبریں