Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

مخصوص نشستوں کیس کی سماعت کرنے والا آئینی بینچ ٹوٹ گیا

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں سے متعلق اہم کیس کی سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ کا گیارہ رکنی آئینی بینچ ٹوٹ گیا، جب جسٹس صلاح الدین پنہور نے بینچ سے علیحدگی اختیار کر لی۔

بینچ کی سربراہی جسٹس امین الدین خان کر رہے تھے، سماعت کا آغاز ہوتے ہی جسٹس صلاح الدین پنہور نے بینچ کا حصہ بننے سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی شمولیت پر اعتراض کیا گیا ہے، جس کے باعث وہ ادارے کے وقار کے تحفظ کے لیے خود کو بینچ سے الگ کر رہے ہیں۔

جسٹس صلاح الدین پنہور کے ریمارکس

دوران سماعت جسٹس صلاح الدین پنہور نے ریمارکس دیے کہ میرا تعلق 2010 سے آپ سے ہے، فیصل صدیقی اور سلمان اکرم راجا جیسے وکلا نے عدالت پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن جس انداز میں میرے خلاف اعتراض اٹھایا گیا، اس سے عدلیہ کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے، میں بینچ سے الگ ہو رہا ہوں لیکن یہ کسی اعتراض کے اعتراف کے طور پر نہ لیا جائے۔

عدالت میں تلخ جملوں کا تبادلہ

سینئر وکیل حامد خان نے جسٹس پنہور کے فیصلے کو قابلِ ستائش قرار دیا، جس پر جسٹس امین الدین خان نے دو ٹوک کہا کہ یہ ستائش کا موقع نہیں، یہ سب کچھ آپ کے طرز عمل کا نتیجہ ہے۔

جسٹس جمال مندوخیل نے بھی حامد خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا رویہ ہی اس ردعمل کا باعث ہے، ہم نے آپ کا احترام کرتے ہوئے آپ کو سنا، حالانکہ ایک ہی جماعت سے دو وکلا کو بیک وقت دلائل کا حق نہیں ہوتا۔

دلائل پر اختلاف

حامد خان کا مؤقف تھا کہ وہ نظرثانی کی بنیاد پر دلائل دینے کے حقدار ہیں، تاہم جسٹس جمال مندوخیل نے ان کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو دلائل دینے کا حق نہیں تھا۔

جسٹس صلاح الدین پنہور نے مزید کہا کہ وکیل کے دلائل نے انہیں ذاتی طور پر رنجیدہ کیا لیکن مسئلہ ذاتی نہیں بلکہ عدلیہ پر جانبداری کا الزام ایک سنجیدہ معاملہ ہےم عوام میں یہ تاثر دینا کہ جج جانبدار ہے، درست نہیں۔

بعدازاں صورتحال کے پیش نظر سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت 10 منٹ کے لیے ملتوی کر دی۔

جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ بینچ کچھ دیر بعد دوبارہ سماعت کرے گا۔

متعلقہ خبریں