دنیا بھر میں ہارٹ اٹیک سے ہونے والی اموات کی شرح میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔
اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ کھانے میں نمک کا کم استعمال مختلف جان لیوا امراض سے موت کا خطرہ کم کردیتا ہے۔
حال ہی میں کی گئی ایک تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ غذا میں نمک کا استعمال کم کرکے امراض قلب، ہارٹ فیلیئر اور فالج کا خطرہ 20 فیصد تک کم کیا جاسکتا ہے۔
تحقیق میں 30 سے 70 سال کی عمر کے 2 لاکھ افراد کو شامل کیا گیا، ان سے سوالنامے بھروائے گئے اور پھر اس ڈیٹا کا موازنہ ان افراد کی میڈیکل ہسٹری سے کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: اگر ہارٹ اٹیک سے بچنا چاہتے ہیں تو اس عام مگر خطرناک عادت کو چھوڑ دیں
ان تمام افراد کو جب تحقیق میں شامل کیا گیا تو کسی میں بھی امراض قلب کی تشخیص نہیں ہوئی تھی، لیکن 12 سال کے دوران ان افراد میں امراض قلب کے 10 ہزار کے قریب کیسز سامنے آئے۔
محققین کا کہنا ہے کہ جو لوگ اپنی غذا میں اضافی نمک چھڑکنے سے گریز کرتے ہیں ان میں امراض قلب سے جڑے مسائل کا خطرہ دیگر افراد کے مقابلے میں کم ہوتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نمک کی اضافی مقدار کے استعمال سے خون میں پانی زیادہ جمع ہوتا ہے جس سے شریانوں پر دباؤ بڑھتا ہے اور ہائی بلڈ پریشر کے مسئلے کا سامنا ہوتا ہے، ہائی بلڈ پریشر سے امراض قلب، ہارٹ اٹیک یا فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔




















