ماہرین کا کہنا ہے کہ چائے پینے کی عادت مجموعی صحت کے لیے اچھی ہوتی ہے۔
چائے کی متعدد اقسام ہیں اور ہر فرد کی اپنی پسند ہوسکتی ہے، جیسے کچھ سبز چائے پینا پسند کرتے ہیں، کچھ سیاہ چائے اور کچھ چائے میں دودھ شامل کرتے ہیں۔
ایک کپ چائے میں فلیونوئڈز، پولی فینولز، پوٹاشیم، فاسفورس، میگنیشم، کاپر، زنک، کیلشیئم اور فلورائیڈ جیسے اجزا اور منرلز شامل ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں؛ چائے کی وہ اقسام جو آپ کی عمر میں اضافہ کرتی ہیں؛ نئی تحقیق سامنے آگئی
اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا یہ گرم مشروب صحت کیلئے فائدہ مند ہوتا ہے یا نہیں؟ تو جواب ہے کہ چائے پینے کی عادت مجموعی صحت کے لیے اچھی ہوتی ہے کیونکہ اس میں شامل اجزا اور منرلز ہمارے جسم کے لیے اہم ثابت ہوتے ہیں۔
چائے کے چند اہم طبی فوائد
ذیابیطس کا خطرہ کم کرے:
ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ روزانہ کم از کم 4 کپ چائے پینے سے ذیابیطس ٹائپ 2 سے متاثر ہونے کا خطرہ کم ہوتا ہے۔
تحقیق کے مطابق روزانہ 4 یا اس سے زیادہ کپ چائے پینے سے آنے والے 10 برسوں میں ذیابیطس سے متاثر ہونے کا خطرہ 17 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔
کینسر کا خطرہ کم:
چائے میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس اور مرکبات کو مخصوص اقسام کے کینسر کے خطرے میں کمی لانے میں مددگار مانا جاتا ہے۔
چائے سے جلد، مثانے، پھیپھڑوں اور بریسٹ کینسر کی روک تھام میں مدد مل سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کن لوگوں میں سبز چائے کا استعمال نقصان کا باعث بن سکتا ہے؟
صحت مند جِلد:
بغیر دودھ کی چائے پینا عادت بنانے سے جِلد کے کینسر کا خطرہ نمایاں حد تک کم ہوتا ہے۔
سیاہ چائے جلدی کینسر کی سب سے عام قسم کا خطرہ کم کرنے کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتی ہے، مجموعی طور پر آئس ٹی کی بجائے گرم چائے اس حوالے سے زیادہ فائدہ مند ہوتی ہے۔
مضبوط دانت:
ایک تحقیق کے مطابق سبز چائے جراثیم کش اثرات رکھتی ہے جو منہ میں کیویٹی کا باعث بننے والے بیکٹریا کی شرح میں کمی لاتا ہے۔
روزانہ سبز چائے پینے سے کیویٹیز کی شدت میں کمی لانے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
بہتر نیند:
اگر آپ رات کو اکثر بستر پر کروٹیں بدلتے رہتے ہیں تو سونے سے قبل ایک کپ چائے پینا عادت بنانے کی کوشش کریں۔
چائے پینے سے نیند کا معیار بہتر ہوتا ہے اور بے خوابی کے عارضے کے شکار افراد کو اس مسئلے پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا آپ صبح چائے پینے کے حیرت انگیز فوائد جانتے ہیں؟
ادویات کا اثر کم ہوسکتا ہے:
ویسے تو چائے کے فوائد بظاہر لاتعداد ہیں مگر امراض قلب اور بلڈ پریشر کی ادویات استعمال کرنے والے افراد کو اس گرم مشروب کا استعمال معالج کے مشورے سے کرنا چاہیے۔




















