ماہرین صحت نے بڑھاپے سے بچنے کا ممکنہ طریقہ دریافت کر لیا ہے۔
حال ہی میں کی گئی ایک تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ غذائی مقدار میں کمی لاکر انسانوں کے بڑھاپے کی جانب سفر کو سست کرنا ممکن ہوسکتا ہے۔
یہ بنیادی طور پر پہلا کنٹرول کلینیکل ٹرائل تھا جس میں دن بھر کی کیلوریز میں کمی لانے سے طویل المعیاد بنیادوں پر مرتب ہونے والے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: صرف 3 دن میں جلد کا قدرتی حسن بحال کرنے کے لیے یہ ڈیٹوکس کلینزاسمودی آزمائیں
2 سال تک جاری رہنے والے اس ٹرائل میں 21 سے 50 سال کی عمر کے 220 صحت مند افراد کو شامل کیا گیا اور ان کے 2 گروپس بنائے گئے۔
ایک گروپ کی روزانہ کی غذائی کیلوریز کی مقدار میں 25 فیصد کمی کی گئی جبکہ دوسرے گروپ کی غذا میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
جن افراد کی غذائی کیلوریز میں کمی لائی گئی تھیں انہیں پہلے مہینے روزانہ 3 وقت تیار کھانا دیا گیا تاکہ وہ غذا کی مقدار میں کمی کے عادی ہو جائیں جبکہ انہیں ماہرین کی مدد بھی فراہم کی گئی۔
اس کے مقابلے میں دوسرے گروپ کی غذائی عادات پر کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی۔
ایک سال مکمل ہونے پر اور 2 سال بعد یعنی کلینیکل ٹرائل کے اختتام پر بھی خون کے نمونے لے کر ڈی این اے میں بڑھاپے کی علامات کی جانچ پڑتال کی گئی۔
تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ غذائی کیلوریز میں کمی لانے والے افراد کی عمر میں اضافے کی رفتار 2 سے 3 فیصد سست ہوگئی۔
یہ بھی پڑھیں: موسم سرما میں جلد کی حفاظت کے لیے یہ ڈے کریم گھر پر بنائیں
اس طرح ان افراد میں کسی بھی وجہ سے قبل از وقت موت کا خطرہ 10 سے 15 فیصد کم ہوگیا۔
محققین کا کہنا ہے کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ طویل المعیاد بنیادوں پر کیلوریز کی مقدار میں کمی سے بڑھاپے کی رفتار پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔




















