Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

اگر 2 ماہ چینی نہ کھائیں تو جسم میں کیا تبدیلی آئے گی؟

کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ 2 ماہ چینی نہ کھائیں تو جسم میں کیا تبدیلی آئے گی؟ اگر نہیں تو آج ہم آپ کو بتائیں گے۔

حال ہی میں برطانوی دارالحکومت لندن کے رہائشی کولن ونکلیووس نامی شخص نے خود پر یہ تجربہ کیا اور اس کے نتائج ویب سائٹ پر شیئر کیے ہیں۔

  کولن ونکلیووس نامی شخص کا کہنا ہے کہ ’ اس نے 2 ماہ تک چینی بالکل استعمال نہیں کی اور اس کے بعد دوبارہ چینی کا استعمال معمول کے مطابق شروع کر دیا ‘۔

لندن کے رہائشی کا کہنا ہے کہ ’ پہلے ہفتے میں آپ کو چینی کی بہت زیادہ طلب ہوتی ہے، آپ کو ہر طرف سے کیک، چاکلیٹ اور دیگر میٹھی چیزوں کی خوشبو آتی ہے اور خود کو ایسی چیزوں سے روکنا بہت کٹھن ہوتا ہے، پہلے ہفتے میں میں چاکلیٹ اٹھاتا اور اسے کچھ دیر تک دیکھتا رہتا اور پھر واپس رکھ دیتا‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ ہفتے کے اختتام تک میری قوت ارادی کچھ بہتر ہو گئی تاہم جسمانی لحاظ سے کوئی خاص فرق نہیں پڑا، دوسرے ہفتے میں چینی چھوڑنے کی کچھ علامات ظاہر ہونی شروع ہوئیں، سر میں درد رہنے لگا، طبیعت میں اکتاہٹ آنے لگی ‘۔

کولن ونکلیووس نامی شخص نے کہا کہ ’ تیسرے ہفتے میں یہ علامات شدید ہو گئیں اور ان کے ساتھ مجھے تھکاوٹ رہنے لگی، تاہم چینی کی طلب کم ہونی شروع ہو گئی، چوتھے ہفتے میں حالت سنبھلنی شروع ہو گئی، ایسا محسوس ہونے لگا جیسے میرا دماغ پہلے کی نسبت بہت ’کلیئر‘ ہے، چینی چھوڑنے کی وجہ سے جو غنودگی اور دھندلاہٹ تھی وہ ختم ہو گئی ‘۔

لندن کے رہائشی کا کہنا ہے کہ ’ پانچویں ہفتے میں جسمانی اعتبار سے بہتری آئی، اعضاء ہلکے اور ڈھیلے محسوس ہونے لگے اور میں خود کو پہلے سے مضبوط محسوس کرنے لگا ‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ چھٹے سے آٹھویں ہفتے تک بہت اچھے احساسات رہے، لگا کہ چینی مکمل چھوڑ دینا صحت کے لیے بہتر ہے، تاہم پھلوں اور دودھ میں پائی جانے والی قدرتی شوگر آپ کی خوراک کا حصہ ہونی چاہیے ‘۔

کولن ونکلیووس نامی شخص کا کہنا ہے کہ ’ نویں ہفتے تک اگرچہ چینی کی طلب باقی نہیں رہی تھی لیکن میں نے سوچا کیوں نہ کیک کا چھوٹا سا ٹکڑا کھا لیا جائے، میں نے ایک ٹکڑا کھایا اور پھر تمام پرہیز دھرا کا دھرا رہ گیا اور میں نے پہلے کی نسبت کہیں زیادہ چینی کھانی شروع کر دی، جس کے نقصانات بھی اٹھائے ‘۔

لندن کے رہائشی کولن ونکلیووس نامی شخص نے کہا کہ ’ اس تجربے سے میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ کسی بھی چیز میں اعتدال پسندی ہی بہترین عمل ہے، کسی بھی چیز کی زیادتی یا کسی بھی چیز سے مکمل اجتناب ٹھیک طرز عمل نہیں ہے‘۔

متعلقہ خبریں