ڈھلتی عمر کے ساتھ بالوں کا گرنا ایک قدرتی عمل ہے لیکن اکثر لوگ عمر سے پہلے ہی بالوں سے محروم ہو جاتے ہیں۔
آج ہم آپ کو ایسی عام وجہ بتائیں گے جس کے باعث اکثر لوگ عمر سے پہلے ہی بالوں سے محروم ہو جاتے ہیں اور گنج پن کا شکار ہو جاتے ہیں۔
امریکا کے مایو کلینک کے مطابق جن افراد کو تناؤ کا بہت زیادہ سامنا ہوتا ہے ان کے بال بہت تیزی سے گرنے لگتے ہیں اور دوبارہ اگنے کی رفتار سست ہو جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا آپ بھی اونچا سنتے ہیں؟ تو اسے بہتر بنانے کے لئے یہ طریقے اپنائیں
اکثر تناؤ کے باعث بالوں کی محرومی عارضی ہوتی ہے مگر کئی بار یہ اثر مستقل ہوتا ہے اور گنج پن کا آثار نمایاں ہو جاتے ہیں۔
تناؤ سے بالوں کی نشوونما کیسے متاثر ہوتی ہے؟
ایک تحقیق کے مطابق بالوں کی نشوونما کے مجموعی طور پر 4 مراحل ہوتے ہیں اور تناؤ کے شکار افراد میں یہ مراحل متاثر ہوتے ہیں، جس کے باعث بالوں کی نشوونما رک جاتی ہے جبکہ گرنے کی رفتار بڑھ جاتی ہے۔
ماہرین کے مطابق تناؤ کے نتیجے میں بالوں سے محرومی کی 3 اقسام کا خطرہ بڑھتا ہے۔
ان میں سے ایک قسم Telogen effluvium ہے جس کے دوران بالوں کی جڑوں کے افعال غیر متحرک ہو جاتے ہیں، جس کے باعث برش کرتے ہوئے یا دھوتے ہوئے بہت زیادہ تعداد میں بال ٹوٹ جاتے ہیں۔
اچھی بات یہ ہے کہ اس قسم کی تشخیص ہونے پر علاج ممکن ہے۔
دوسری قسم الوپ پیسا ہے جس کے شکار افراد کے جسمانی خلیات بالوں کی جڑوں پر حملہ آور ہو جاتے ہیں جس سے سر کے مختلف حصوں سے بال اڑنے لگتے ہیں۔
اگر تناؤ کے نتیجے میں الوپ پیسا کا سامنا ہو تو بالوں کی دوبارہ نشوونما ممکن ہے، مگر تناؤ پر قابو پانا ضروری ہوگا۔
تیسری قسم Trichotillomania ہے جس میں تناؤ کے شکار افراد اپنے سر کے بال کھینچ کر توڑنے لگتے ہیں اور ایسا کرنے پر بال دوبارہ نہیں اگتے۔
تناؤ سے بالوں کی محرومی کا سامنا کیوں ہوتا ہے؟
2021 میں چوہوں پر ہونے والی ایک تحقیق میں اس میکنزم کو دریافت کیا گیا تھا۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جب جسم میں تناؤ کا باعث بننے والے ہارمون کورٹیسول کی سطح بڑھ جاتی ہے تو بالوں کی جڑوں کے افعال تھم جاتے ہیں یا غیر متحرک ہو جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بچوں کی بہتر نشوونما کے لیے ناشتے میں ان غذاؤں کو شامل کریں
جب یہ افعال غیر متحرک ہوتے ہیں تو بالوں کی نشوونما نہیں ہوتی مگر بال ٹوٹتے رہتے ہیں۔
محققین نے بتایا کہ نتائج سے تناؤ اور بالوں سے محرومی کے درمیان تعلق واضح ہوتا ہے۔




















