Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

آنکھیں کئی سال پہلے پارکنسن مرض کے بارے میں آگاہ کرسکتی ہیں

انسانی آنکھیں وہ واحد قدرتی کھڑکی ہے جو کسی بھی شخص کے مرکزی اعصابی نظام تک رسائی کو ممکن بنا سکتی ہے، انہیں دیکھ کر کسی بھی بیماری کا وقت سے پہلے پتا لگایا جاسکتا ہے۔

سائنسدان حال ہی میں آنکھوں کو دیکھ  کر پارکنسنز کی بیماری کی انتہائی ابتدائی علامات کو مرض کے سات سال پہلے دیکھنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ آنکھوں کے اسکین ڈیٹا اور مشین لرننگ کا استعمال کرتے ہوئے، محققین نے تصدیق کی ہے کہ مصنوعی ذہانت اے آئی کلینیکل تشخیص سے پہلے پارکنسنز کی واضح نشانیاں دیکھ سکتی ہے۔

پارکنسنز میں ریٹینل امیجنگ پر آج تک کی یہ سب سے بڑی تحقیق ہے جس میں محققین اس بیماری کی موجودگی کی نشاندہی کرنے والے مارکروں کی شناخت کلینیکل تشخیص سے کئی سال پہلے کی گئی ہے۔ تاہم، یہی اسکین جسم اور دماغ کی صحت کے بارے میں بہت واضح اوردرست معلومات بھی فراہم کر سکتے ہیں۔

گزشتہ کئی برسوں سے محققین اس ڈیٹا کو اعصابی امراض جیسے الزائمر کی بیماری اور شیزوفرینیا کی تشخیص کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

دنیا بھرمیں تقریباً ایک کروڑ سے زائد افراد پارکنسن کے مرض میں مبتلا ہے یہ ایک اعصابی بیماری ہے جس میں دماغ میں موجود کچھ خلیات مردہ ہوجاتے ہیں جس کی وجہ جسم اپنا توازن کھونے لگتا ہے۔

اس کی ابتدا اکثر ہاتھوں میں رعشہ یعنی لرزش اور مختلف عضلات و پٹھوں کے اکڑنے سے ہوتی ہے اوروقت گزرنے کے ساتھ جسم آہستہ آہستہ اپنا توازن کھونے لگتا ہے، چلنا پھرنا یہاں تک کہ بات کرنا بھی دشوار ہو جاتا ہے یہ مرض عموماً 50 برس سے زائد عمر کے افراد میں ظاہر ہوتا ہے۔

یونیورسٹی کالج لندن اور برطانیہ کے مورفیلڈز آئی ہسپتال سے ماہر امراض چشم سیگ فرائیڈ ویگنرکا کہنا ہے کہ اگرچہ ہم ابھی تک یہ پیشین گوئی کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ آیا کسی فرد کو پارکنسنز کا مرض لاحق ہو گا، ہمیں امید ہے کہ یہ طریقہ جلد ہی بیماری کے خطرے سے دوچارافراد  کے لیے پہلے سے اسکریننگ کا ایک طریقہ کار بن جائے گا۔

سائنسدانوں نے مصنوعی ذہانت کے پروگرام کی مدد سے 40 سال یا اس سے زیادہ عمر کے 154,830 مریضوں کے آنکھوں کے سکین کا موازنہ کیا۔

اس گروپ کے 700 افراد جن میں پارکنسنز کی بیماری موجود تھی، ان کے ریٹینا کی شکل میں ایک چھوٹا لیکن اہم فرق ظاہر ہوا۔ جبکہ آنکھ کی اندرونی سطح میں گینگلیئن خلیوں کی تہہ کو پتلا ہوتے ہوئے دیکھا، جو کہ نیوران کی ایک قسم ہے اور بصری معلومات کو ڈوپامائن کے ذریعے منتقل کرتی ہے۔

اس کے بعد محققین نے اسی فرق کو یو کے بائیو بینک ڈیٹا بیس کے 67,311 لوگوں میں دیکھنے کے لیے اسکین کیا۔ جن میں سے 53 کو مطالعہ کے دوران پارکنسنز کی تشخیص ہوئی۔

انہوں نے پایا کہ پارکنسن کی بیماری کی کسی بھی علامات کی ظاہر ہونے سے بہت پہلے اندرونی گینگلیئن کی پرت پتلی ہوسکتی ہے اور یہ اس مرض کی غیر واضح علامات ہے جو مستقبل میں اس مرض کے ہونے کی نشاندہی کر سکتی ہے۔

واضح رہے کہ جب تک کسی بھی شخص میں پارکنسنز کی تشخیص ہوتی ہے، وہ پہلے ہی اپنے دماغ کے ایک حصے میں 60 سے 80 فیصد کے درمیان ڈوپامائن پیدا کرنے والے خلیات کھو چکے ہوتے ہیں جسے سبسٹینٹیا نگرا کہا جاتا ہے۔

اگر بیماری کے ابتدائی مراحل کوآنکھ کے اسکین کے ذریعے پہلے ہی دیکھ لیا جائے تواس طرح مرض کے علامات کو کم کرنے اور علاج میں مدد مل سکتی ہے۔

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے فیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں

ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں