اگر آپ اپنی دن بھر میں کھائی جانے غذا کو نوٹ کریں تو آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ اس میں کتنی ہی غذائیں ایسی ہیں جن میں چینی براہ راست موجود ہوتی ہے چاہے وہ صبح کی چائے کے ساتھ ڈبل روٹی یا بسکٹس ہوں یا پھر کوئی اور میٹھا ہو چینی ضرور اس کا حصہ ہوگی۔
اتنی زیادہ استعمال ہونے والی چینی اتنی ہی زیادہ مضر صحت کیوں ہے؟ تو ماہرین نے اس کے جواب میں کہا ہے کہ ہم جتنی بھی غذا کھاتے ہیں ان میں سب سے غیر صحت بخش چیز چینی ہے جوکہ ایک طرح کا سفید زہر کہلاتی ہے۔
چینی گڑ سے تیار کی جاتی ہے پھر اسے ریھائن کر کے چینی کی شکل دی جاتی ہے۔ بنیادی طور پر گڑ شکر کی ایسی قسم ہے جسے ریفائن نہیں کیا جاتا ہے، یعنی اس میں غذائی اجزا موجود ہوتے ہیں جبکہ چینی میں صحت کے لیے مفید اجزا نہیں ہوتے۔
ماہرین غذائیت کے مطابق ایک صحت مند انسان کی دن بھرکے لیے چینی کی تجویز کردہ مقدار صرف 25 گرام یعنی 5 چائے کے چمچ کے برابر ہے۔ اس کے نقصان کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ چینی کیلوریز سے بھر پورمگرغذا ئیت سے خالی ہوتی ہے اسی لیے اسے صرف کیلوریز کہا جاتا ہے۔ اس کا زیادہ استعمال جسم کے میٹاولزم پر نہایت منفی آثر ڈالتا ہے، اورکئی خطرناک امرض جن میں موٹاپا، جگر کے امرض، ٹائپ ٹوذیابیطس اور کینسر کے خدشے کو بڑھاتا ہے۔
چینی کے خون میں شامل ہونے سے قبل نظام انہضام اسے دو طرح کی سادہ چینی گلوکوزاور فریکٹوزمیں تقسیم کر دیتا ہے۔ جو لوگ چینی کا زیادہ استعمال کرتے ہیں ان کے خون میں موجود فریکٹوز چکنائی میں تبدیل ہوکر جگر پر جمنا شروع ہوجاتی ہے اورلبلبہ میں انسولین کی کرکردگی متاثر ہونے لگتی ہے جس سے ٹائپ ٹوذیا بیطس کا خطرہ کئی گناہ بڑھ جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ماہرین صحت چینی کے کم استعمال کا مشورہ دیتے ہیں اور میٹھے کے لیے قدرتی غذاؤں جیسے پھل کھانے کا مشورہ دیتے ہیں۔




















