یہ بات سب ہی جانتے ہیں کہ سانپ کے کاٹنے کی اینٹی وینم ( یا تریاق) مختلف ہوتے ہیں۔ کیونکہ ہر سانپ کا زہر مختلف نوعیت کا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پہلے سانپ کی قسم کو جاننے کی ضرورت ہوتی ہے۔
اب ماہرین نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایک ایسے اینٹی وینم کے قریب پہنچ چکے ہیں جو ہر قسم کے زہریلے سانپوں کا تریاق ثابت ہوسکتا ہے۔ اسے ‘عالمگیر تریاق’ یا یونیورسل اینٹی وینم کا نام دیا گیا ہے۔
لیورپول اسکول آف ٹراپیکل میڈیسن کےنکولس کیسویل اور ان کے ساتھیوں نے اپنی تحقیق کے بعد ایک مقالہ شائع کرایا ہے جس میں تجربہ گاہ میں تیار ایک اینٹی باڈی کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ سانپ کے زہر میں موجود نیوروٹاکسن کو زائل کرسکتا ہے اور کئی طرح کے سانپوں کے زہر کو بے اثر کرتا ہے۔
واضح رہے کہ سانپ کاٹنے کے بعد بعض زہر دل پر اثر کرتے ہیں لیکن اکثریت دماغ کو نشانہ بناتے ہیں جنہیں نیوروٹاکسن کہا جاتا ہے۔ ہرسال پاکستان سمیت ایک لاکھ 38 ہزار افراد سانپ کے کاٹنے سے موت کے شکار ہوجاتے ہیں۔ اکثر غریب ممالک میں بچے اور کسان اس کا نشانہ اس وقت بنتے ہیں جب وہ کھیتوں میں جاتے ہیں۔
تجربہ گاہ میں تیار اس اینٹی باڈی کو 95 ایم اے ٹی 5 کا نام دیا گیا ہے۔ یہ کام بھوسے کے ڈھیر میں سوئی کی تلاش جیسا تھا کیونکہ لگ بھگ 50 ارب اینٹی باڈٰیز کو چھانا گیا ہے اور ایک بہترین اینٹی باڈی کو منتخب کرکے چوہوں پر آزمائش کی گئی ہے۔
تاہم ابھی مزید تحقیقات کی ضرورت ہے لیکن چوہوں پر کامیاب تجربات کے بعد امید پیدا ہوئی ہے کہ تمام خطوں میں پائے جانے والے سانپوں کے زہر کو ایک ہی اینٹی وینم سے زائل کیا جاسکے گا ۔




















