Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ایک منٹ میں پلکیں جھپکانے کی تعداد، کھولے آپ کے صحت کے راز

آپ نے اکثر یہ نوٹ کیا گیا ہوگا کہ کچھ لوگ بہت زیادہ پلکیں جھپکاتے ہیں جبکہ بہت سے لوگ کم۔ بظاہر معمولی سا نظر آنے والا عمل یہ آپ کو صحت کے کئی مسائل سے آگاہ کرسکتا ہے۔

  ماہرین کا کہنا ہے کہ آپ ایک منٹ میں کتنی بار پلکیں جھپکتے ہیں اس میں تبدیلی جیسے کمی ہونا یا  زیادتی بنیادی صحت کے مسئلے کی ایک علامت ہوسکتی ہے۔

اوسطاً، زیادہ تر بالغ افراد ایک منٹ میں تقریباً 14 یا 17 بار پلکیں جھپکاتے ہیں، جو آنکھوں کو نم رکھنے اور کارنیا کی سطح کو صاف کرنے کاایک بہترین قدرتی طریقہ ہے۔ تاہم اس تعداد سے زیادہ یا کم پلک جھپکانا اس بات کی علامت ہو سکتی ہے کہ جسم میں کچھ مسائل جنم لے رہے ہیں ان میں قوت مدافعت میں کمی سے لے دیگر جسمانی اور پارکنسنز جیسے دماغی امراض شامل ہوسکتے ہیں۔

امریکن پارکنسن ڈیزیز ایسوسی ایشن کے مطابق، تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ پارکنسنز کے مریض کے پلک جھپکنے کی اوسط مقدار فی منٹ ایک یا دو بار تک کم ہو سکتی ہے۔

ایک تحقیق کے مطابق جس رفتار سے آپ قدرتی طور پر پلکیں جھپکاتے ہیں وہ دماغ میں ڈوپامائن کی سرگرمی اور اس کی سطح کو ظاہر کرتی ہے۔

دماغ میں ڈوپامائن کی سطح جتنی کم ہوگی، اسی مناسبت سے کسی بھی موضوع یا چیز پر آپ کی سوچ رک جائے گی، یہی وجہ ہے کہ آپ اتنی ہی کم پلکیں جھپکائیں گے۔

پارکنسنز کے مرض میں ڈوپامائن پیدا کرنے والے عصبی خلیات کو نقصان پہنچتا ہے جس سے اس کے اخراج میں کمی واقع ہوتی ہے، یہی کمی آہستہ اور کم پلک جھپکانے اور ہاتھ کانپنے جیسی علامات کا سبب بن سکتی ہیں۔

واضح رہے کہ پارکنسنز کا مرض زیادہ تر 60 برس سے زائد کو متاثر کرتا تاہم ابتدائی آغاز 50 برس کی عمر سے پہلے بھی ہوسکتا ہے.

یہی وجہ ہے کہ ماہرین کے مطابق بہت کم اور آہستہ سے پلکیں جھپکانا پارکنسنز کی ابتدائی علامت ہوسکتی ہیں جبکہ اس کے ساتھ حرکت کرنے میں مشکل پیش آنا اور سستی جیسے قمیض کے بٹن لگانے  اور دشواری کا سامنا کرنا بھی شامل ہے۔

تھائی رائڈز ہارمون کی زائد پیداوار کے نتیجے جو علامات سامنے آتی ہیں ان میں پلکوں کا کم جھپکنا بھی شامل ہیں، جبکہ اس کی دیگر علامات میں ہاتھوں یا انگلیوں میں ہلکا سا جھٹکا محسوس ہونا، گرمی کی حساسیت کا بڑھ جانا، وزن میں کمی، تائرواڈ گلٹی کا بڑا ہونا، آنکھو کا ابھرنا اور پنڈلیوں یا پیروں جلد کا سرخ اور موٹا ہوجانا بھی شامل ہیں۔ یوں تو یہ مرض کسی بھی عمر میں جنم لے سکتا ہے تاہم یہ بیماری 20 برس سے زائد عمر کی خواتین میں زیادہ عام ہے۔ نصف سے زیادہ خواتین میں یہ مرض آنکھوں کو متاثر کرتا ہے۔

دوسری طرف، زیادہ اور کثرت سے پلکیں جھپکنا تھکاوٹ کی علامت ہو سکتی ہے جب کوئی ضروری کام کرنے کی کوشش کر رہا ہو جیسے سستی کے دوران ڈرائیونگ۔

خشک آنکھوں کے مرض میں مبتلا افراد ضرورت سے زیادہ پلکیں جھپکاتے ہیں تاکہ آنکھوں کو نمی کو برقرار رکھا جاسکے۔

سجوگرینز سینڈروم ایک ایسا عارضہ ہے جو آنکھوں اور منہ کی خشکی باعث بنتا ہے۔ یہ بیماری مدافعتی نظام پر حملہ آور ہوکر ان غدود کو متاثر کرتی ہے جو آنسو اور لعاب بناتے ہیں۔ اس طرح آنسوؤں کی پیداوار محدود ہوجاتی ہے جو عام طور پر آنکھوں کی سطح کو گیلا رکھتی ہیں۔

عارضی طور پر خشک آنکھوں کی دیگر وجوہات میں ہارمون کی تبدیلی اور پلکوں کے غدود کی سوجن شامل ہیں، اس طرح پلک جھپکانے کی شرح میں اضافہ ہوجاتا ہے۔

الرجی بھی  پلک جھپکنے کی تعدد کو بھی بڑھا سکتی ہے۔ جب آنکھیں کسی دھول کا سامنا کرنے پر آشوب چشم ہونے لگتا ہے جس سے آنکھوں سے پانی بہنے اور خارش جیسے مائل کا باعث بن سکتا ہے ۔