یہ خوش آئند خبر طب کی دنیا سے آئی ہے جس کے مطابق خواتین معالج سے علاج کرنے والے مریضوں میں نہ صرف موت کی شرح کم ہوتی ہے بلکہ انہیں دوبارہ اسپتال میں داخل ہونے کی ضرورت بھی نہیں رہتی۔
اینالز آف انٹرنل میڈیسن میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں، 2016 اور 2019 میں اسپتال میں داخل ہونے والے مریضوں میں سے 20 فیصد کا جائزہ لیا گیا۔ مرد اور خواتین دونوں مریضوں کے گروپوں میں سے تقریباً 31 فیصد کا علاج ایک خاتون معالج نے کیا۔

حالیہ تحقیق کے مطابق مریض چاہے مرد ہو یا خواتین اگر ان کا علاج کوئی خاتون معالج کرتی ہے تو ایسی صورت میں مریض کی شرح اموات کم ہوتی ہے اور علاج کے بہتر نتائج سامنے آتے ہیں خاص کر خواتین میں یہ شرح زیادہ ہے۔
نتائج کے مطابق خواتین اور مرد معالج سے علاج کرنے پر مریض کی شرح اموات میں یہ فرق بلترتیب 8.15 اور 8.38 فیصد نوٹ کیا گیا۔ محققین اسے طبی لحاظ سے اہم فرق سمجھتے ہیں تاہم مرد مریضوں کے لیے ان کے معالج کی جنس کی بنیاد پر نتائج میں کوئی خاص فرق نہیں تھا۔
محققین کا کہنا ہے کہ اگر خواتین کسی خاتون معالج سے علاج کراتی ہیں تو ایسی صورت میں دونوں کے درمیان نہ صرف بہتر تعلق قائم ہوتا ہے بلکہ خاتون معالج کی جانب سے دیئے جانے والے مشوروں سے خاتون مریضہ اتفاق بھی کرتی ہیں، چونکہ خواتین فطری طور پر بہتر دیکھ بھال کر سکتی ہیں اسی لیے ان کا یہ عمل اس پیشے میں بھی دکھائی دیتا ہے اس لیے مریض میں صحت یابی کا عمل تیز ہوتا ہے۔

تحقیق کے مطابق کوئی بھی مریض جب کسی خاتون معالج سے علاج کراتے ہیں تو مریض مسلسل بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مرد معالجین کو اس تحقیق کے نتائج پر غور کرنا چاہیے کہ ایسا کیوں ہے اور اور وہ کس طرح اپنی کام کو بہتر بنا سکتے ہیں۔




















